ٹرمپ کے بعد ری پبلکن پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا؟ جے ڈی وینس کی نظریں 2028ء پر
نائب صدر نے ڈیلس میں منعقدہ ری پبلکن کنونشن کے دوران خود کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی وارث کے طور پر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم پارٹی پر ٹرمپ کی گرفت بدستور مضبوط ہے۔
تحریر: ٹائلر پیجر، وائٹ ہاؤس کے نمائندے
11 ستمبر 2026ء
ڈیلس — ری پبلکن رہنما، امیدوار، کارکن اور میگا تحریک کے پُرجوش حامی رواں ہفتے بظاہر اس مقصد کے تحت ڈیلس میں جمع ہوئے کہ مشکل سیاسی حالات میں وسط مدتی انتخابات جیتنے کے لیے پارٹی امیدواروں کی مدد کی جا سکے۔
تاہم نائب صدر جے ڈی وینس کے لیے یہ اجتماع ذاتی اور سیاسی طور پر ایک اہم موقع ثابت ہوا۔ جمعرات کی شب جب وہ مرکزی خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے تو انہوں نے اپنی مقبولیت اور حاضرین کی جانب سے ملنے والی پذیرائی پر خوشی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
حامیوں کی جانب سے ان کے نام کے ابتدائی حروف ’’جے ڈی‘‘ کے نعرے لگائے گئے تو نائب صدر نے کہا:
’’مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ اتنے پُرجوش مجمع کو اپنا نام پکارتے سننا واقعی بہت اچھا لگتا ہے۔ چلیں، ایک مرتبہ پھر نعرہ لگائیں۔‘‘
ڈیلس میں ری پبلکن امیدواروں، سیاسی کارکنوں اور میگا تحریک کے حامیوں کا یہ غیر معمولی دو روزہ اجتماع اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ تمام توجہ صدر ٹرمپ پر مرکوز رہے۔ صدر ٹرمپ نے خود پارٹی سے اس تقریب کے انعقاد اور مالی معاونت کا مطالبہ کیا تھا۔ مقرر کے بعد مقرر نے ان کی تعریف کی۔
صدر نے شرکا سے کہا کہ وہ ’’یہ تصور کریں کہ انتخابی پرچے پر میرا نام موجود ہے‘‘۔ انہوں نے حاضرین سے اپنی ذات کے ساتھ وفاداری کا عہد بھی دہرایا۔
اس تمام چمک دمک، غباروں اور میگا کے سجے ہوئے ملبوسات کے پس منظر میں ری پبلکن رہنما پارٹی کے مستقبل کے بارے میں بھی گفتگو کرتے رہے—خصوصاً اس دور کے بارے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ پارٹی کے قائد نہیں رہیں گے۔
ان مباحث کا مرکزی سوال یہ تھا کہ ٹرمپ کی قیادت میں ازسرنو تشکیل پانے والی ری پبلکن پارٹی اور ان کے وفادار حامی کیا اپنی حمایت نائب صدر جے ڈی وینس کو منتقل کریں گے، جو پہلے ہی مستقبل میں صدارتی انتخاب لڑنے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
جمعرات کے خطاب میں وینس نے خود کو ٹرمپ کے وفادار سیاسی حلقے کا ممکنہ وارث ثابت کرنے کے لیے اب تک کے چند واضح ترین اقدامات کیے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں ان مشکل معاملات سے زیادہ تر گریز کیا جو ری پبلکن پارٹی کی مقبولیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران جنگ کا صرف بالواسطہ حوالہ دیا۔ ان محصولات کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے ووٹروں کی معاشی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے، اور نہ ہی صدر ٹرمپ کی اس تجویز پر بات کی کہ اگر ری پبلکنز کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں تو ووٹروں کو پانچ ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
اس کے برعکس وینس نے اپنی ذاتی زندگی اور جدوجہد کی کہانی کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کسی بھی انتخابی امیدوار کے مقابلے میں اپنی اہلیہ کا زیادہ ذکر کیا۔ نائب صدر نے اپنے چوتھے بچے کی حالیہ پیدائش اور چارلی کرک کی وفات کی پہلی برسی کا بھی حوالہ دیا۔
تقریر کے دوران انہوں نے ڈیموکریٹس پر سخت سیاسی حملے کیے اور اس مظاہرہ کرنے والے شخص کو بھی بھرپور جواب دیا جس نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا تھا۔
وینس کی تحریری اور نسبتاً روایتی سیاسی تقریر، صدر ٹرمپ کے بے ساختہ اور برجستہ اندازِ خطابت سے نمایاں طور پر مختلف تھی۔ تاہم جب ایک مظاہرہ کرنے والے نے میکسیکو اور فلسطین کے پرچم لہرائے تو وینس کا غیر تحریری جواب ہی مجمع میں سب سے زیادہ جوش پیدا کرنے کا باعث بنا۔
وینس نے مظاہرہ کرنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’میرے دوست، اگر آپ کو میکسیکو سے اتنی ہی محبت ہے تو وہیں چلے جائیں۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ میں خرید دوں گا۔‘‘
ان کے اس بیان پر حاضرین نے زبردست شور مچایا۔
ری پبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وینس، جو کبھی صدر ٹرمپ کے کھلے ناقد تھے مگر بعد میں ان کے مضبوط حامی بن گئے، پارٹی کی آئندہ صدارتی نامزدگی کے لیے اس وقت واضح طور پر سب سے آگے ہیں۔
ایک موقع پر حاضرین نے ’’48، 48‘‘ کے نعرے بھی لگائے، جس سے مراد یہ تھی کہ وہ وینس کو امریکا کا 48واں صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم ری پبلکن حلقے یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وینس کو ٹرمپ کے تمام حامیوں کی حمایت یکجا کرنے کے لیے ابھی مزید کام کرنا ہوگا، خصوصاً ان لوگوں کی جو باقاعدگی سے ووٹ نہیں دیتے یا سیاست پر مسلسل توجہ نہیں رکھتے۔
انتہائی دائیں بازو کے مبصر اور وینس کے حامی جیک پوسوبیک نے کہا:
’’ان کے پوڈکاسٹ میزبانوں تھیو وان اور جو روگن کے ساتھ تعلقات ہیں، جنہیں یہ لوگ سنتے ہیں۔ وینس کو انہیں 2028ء کے لیے دوبارہ سیاسی میدان میں واپس لانے پر آمادہ کرنا ہوگا۔‘‘
اسی مقصد کے تحت وینس نے شکوک و شبہات رکھنے والے اور غیر فیصلہ شدہ ووٹروں سے براہِ راست اپیل کی، بالخصوص ان لوگوں سے جو ٹرمپ انتظامیہ کی بعض پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔
انہوں نے کہا:
’’چند اختلافات کی وجہ سے پوری چیز کو مسترد نہ کریں۔ صرف اس لیے ملک کو انتہا پسند لوگوں کے حوالے نہ کریں کہ آپ کسی ایک یا دو پالیسی معاملات پر ہم سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:
’’میں کسی سے یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ وہ انتظامیہ کی ہر پالیسی سے اتفاق کرے۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے اور انتہا پسندوں کے درمیان فرق کو پہچانیں اور گزشتہ 18 ماہ کی کامیابیوں کو تسلیم کریں۔‘‘
ایران جنگ—وینس کے لیے ایک حساس معاملہ
ایران کے ساتھ جنگ نائب صدر وینس کے لیے خصوصی طور پر حساس موضوع ہے۔ انہوں نے 2023ء میں ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرمپ امریکا کو کسی نئی غیر ملکی جنگ میں نہیں لے جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق وینس ابتدا ہی سے نجی طور پر ایران جنگ کے مخالف تھے، لیکن ٹرمپ کے حامیوں کے ایک حصے کی شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے عوامی سطح پر اس جنگ کا دفاع کیا۔
اگرچہ 2028ء کے صدارتی انتخاب کے لیے سیاسی صف بندی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، لیکن ڈیلس کا اجتماع اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ صدر ٹرمپ فی الحال ری پبلکن پارٹی پر اپنی مضبوط گرفت چھوڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
اس صورتِ حال نے وینس کو ایک مشکل مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہیں ممکنہ صدارتی امیدوار بننے کے لیے بنیاد بھی تیار کرنی ہے اور اپنے غیر متوقع مزاج رکھنے والے سیاسی سربراہ کو ناراض ہونے سے بھی بچانا ہے۔
صدر ٹرمپ متعدد مرتبہ وینس کو پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے سب سے مضبوط امیدوار قرار دے چکے ہیں، لیکن انہوں نے تاحال ان کی باقاعدہ توثیق نہیں کی۔
صدر اکثر اپنے معاونین اور حامیوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کا جانشین کون ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کے قریبی بعض افراد کا کہنا ہے کہ صدر اپنی باضابطہ حمایت کا اعلان کچھ عرصے تک مؤخر کر سکتے ہیں تاکہ امیدواروں کے درمیان ان کے سابق ٹی وی پروگرام ’’دی اپرنٹس‘‘ کے طرز کا مقابلہ جاری رہے۔
صدر ٹرمپ اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا نام بھی ایک ممکنہ جانشین کے طور پر لیتے رہتے ہیں۔ تاہم روبیو کہہ چکے ہیں کہ اگر جے ڈی وینس صدارتی انتخاب لڑتے ہیں تو وہ امیدوار نہیں بنیں گے۔
مارکو روبیو لاطینی امریکا کے دورے پر ہونے کی وجہ سے ڈیلس کے اجتماع میں شریک نہیں ہوئے۔
ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز سمیت کئی دیگر ری پبلکن رہنما بھی 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے میں ممکنہ دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ ٹیڈ کروز نے بھی جمعرات کو کنونشن سے خطاب کیا۔
کارکنوں اور مالی معاونین سے رابطے
نائب صدر وینس نے اس اجتماع کو پارٹی کارکنوں اور مالی معاونین کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بھی استعمال کیا۔
انہوں نے جمعرات کی صبح مختلف ریاستوں سے آنے والے وفود کے ناشتے کی تقریبات میں شرکت کی۔ بعدازاں وہ ’’دی چارلی کرک شو‘‘ میں شریک ہوئے، جہاں چارلی کرک کے قتل کی پہلی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
چارلی کرک کی بیوہ ایریکا کرک، جنہوں نے کنونشن کی پہلی شب شرکت کی، پہلے ہی 2028ء کے صدارتی انتخاب کے لیے وینس کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔
دوپہر کے وقت وینس نے ڈیلس کے رِٹز کارلٹن ہوٹل میں منعقدہ ایک چندہ جمع کرنے کی تقریب سے مرکزی خطاب کیا۔
وہاں انہوں نے مشی گن سے سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کو 11 ستمبر 2001ء کے حملوں سے متعلق ان کے سابقہ بیانات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے مذاقاً یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی جمعرات کی تقریر میں مزید 95 منٹ شامل کرنا پڑے، تاکہ صدر ٹرمپ کی بدھ کو کی گئی طویل تقریر کے بعد ان کی تقریر مختصر محسوس نہ ہو۔
تاہم کنونشن میں وینس کا اصل خطاب تقریباً 40 منٹ تک جاری رہا۔
وینس کی تقریر کے بعد صدر ٹرمپ دوبارہ اسٹیج پر آئے، ان سے مصافحہ کیا اور گلے ملے۔
ڈیلس سے واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار ہوتے ہوئے صحافیوں سے وینس کی تقریر کے بارے میں کہا:
’’وہ ایک بہترین نائب صدر ثابت ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں انہوں نے بہت اچھا کام کیا۔‘‘
تھیوڈور شلائفر نے رپورٹنگ میں معاونت کی۔
اصل خبر: The New York Times — Tyler Pager
اردو ترجمہ، ترتیب اور تجزیہ: ادارتی ڈیسک
Frequently Asked Questions
What happened at the Dallas Republican gathering?
Republican leaders, candidates, and MAGA supporters gathered in Dallas ahead of the midterms. Vice President JD Vance used a keynote address to present himself as a possible successor in Trump’s political circle for 2028.
Has Trump endorsed JD Vance for 2028?
No. Trump has often called Vance a strong contender for the nomination but has not formally endorsed him, and some close to Trump say he may delay a formal endorsement.
Who else is mentioned as a possible 2028 contender?
Secretary of State Marco Rubio is sometimes named by Trump as a possible successor, though Rubio has said he would not run if Vance does. Texas Senator Ted Cruz and other Republican leaders have also shown possible interest.