لزبن کے سامنے بانہیں پھیلائے ’’کرسٹو رَے‘‘ — امن، جنگ اور شکرگزاری کی ایک حیرت انگیز داستان
پرتگال کے Cristo Rei — برازیل سے متاثر، دوسری جنگِ عظیم، غیرجانب داری، عوامی چندہ اور امن کی علامت۔ سید انور واسطی کا لزبن سفرنامہ۔
تحریر: سید انور واسطی
پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے سامنے، دریائے ٹیگس کے دوسرے کنارے پر Almada کی بلندیوں پر ایک عظیم الشان مجسمہ دور ہی سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی شبیہ، دونوں بازو پھیلائے، یوں محسوس ہوتی ہے جیسے پورے لزبن کو اپنی آغوش میں لیے کھڑی ہو۔
اپنے حالیہ دورۂ پرتگال کے دوران مجھے Cristo Rei — Christ the King کے اس مشہور مقام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ محض ایک سیاحتی مقام یا بہت بڑا مجسمہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے برازیل، دوسری جنگِ عظیم، پرتگال کی غیر جانب داری، مذہبی عقیدے اور امن کی خواہش سے جڑی تقریباً ایک صدی پرانی داستان موجود ہے۔
کہانی برازیل سے شروع ہوتی ہے
اس یادگار کا بنیادی تصور 1934 میں سامنے آیا۔ لزبن کے اُس وقت کے کارڈینل پیٹریارک Manuel Gonçalves Cerejeira جنوبی امریکا کے سفر سے واپس آ رہے تھے۔ ریو ڈی جنیرو میں مشہور Christ the Redeemer یعنی Cristo Redentor کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے، جو Corcovado پہاڑ پر ریو کی طرف بازو پھیلائے کھڑا ہے۔
اسی منظر نے انہیں متاثر کیا کہ پرتگال میں بھی لزبن کے سامنے اسی نوعیت کی ایک عظیم یادگار تعمیر ہونی چاہیے۔ 1937 میں پرتگالی بشپوں نے باقاعدہ طور پر اس منصوبے کی منظوری دے دی۔
یعنی ایک دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ لزبن کا Cristo Rei براہِ راست ریو ڈی جنیرو کے Christ the Redeemer سے متاثر تھا۔
دوسری جنگِ عظیم نے اس منصوبے کو نیا مطلب دے دیا
1939 میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی اور یورپ ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔
20 اپریل 1940 کو پرتگال کے بشپ فاطمہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے ایک مذہبی عہد کیا کہ اگر پرتگال اس جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا تو لزبن کے سامنے Sacred Heart of Jesus کے اعزاز میں ایک عظیم یادگار تعمیر کی جائے گی۔
پرتگال نے دوسری جنگِ عظیم میں غیر جانب داری اختیار کی اور براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ ملک جنگ کی اس تباہی سے بڑی حد تک محفوظ رہا جس نے یورپ کے کئی ممالک کو برباد کردیا تھا۔
اسی پس منظر میں Cristo Rei کی تعمیر کو امن ملنے پر قومی شکرگزاری کی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
یہاں ایک تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پرتگال جنگ میں غیر جانب دار رہا اور براہِ راست جنگی کارروائیوں میں شامل نہیں ہوا۔ مذہبی نقطۂ نظر سے اُس وقت کے پرتگالی چرچ نے ملک کے جنگ کی تباہی سے محفوظ رہنے کو خدا کا شکر ادا کرنے کی وجہ سمجھا۔
عوام نے بھی تعمیر میں حصہ ڈالا
اس یادگار کی تعمیر کے لیے پورے پرتگال میں چندہ جمع کرنے کی مہم چلائی گئی۔
اس میں ایک بہت دلچسپ حصہ بچوں کا بھی تھا۔ “Pedras Pequeninas” — یعنی “چھوٹے چھوٹے پتھر” کے نام سے بچوں کو بھی اس مہم میں شریک کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں اور عطیات مل کر ایک عظیم قومی یادگار کی تعمیر میں حصہ بنیں۔
1941 میں اس کے لیے زمین خریدی گئی اور 18 دسمبر 1949 کو باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھا گیا۔
دس سال بعد تاریخی افتتاح
تعمیر ایک بہت بڑا انجینئرنگ منصوبہ تھا۔ اس کی تعمیر میں مجموعی طور پر تقریباً 40 ہزار ٹن کنکریٹ استعمال ہوا۔ مجسمے کو بلندی پر ہاتھ سے تراشنے کا کام بھی کیا گیا۔
بالآخر 17 مئی 1959، Pentecost کے دن Cristo Rei کا افتتاح ہوا۔
تقریب میں پرتگال کے بشپوں، سرکاری شخصیات اور بیرونِ ملک سے آنے والے مذہبی رہنماؤں سمیت اندازاً تین لاکھ افراد شریک ہوئے۔ پوپ John XXIII نے ریڈیو کے ذریعے اپنا پیغام بھیجا۔
اس موقع پر اسے قومی سطح پر امن کے تحفے پر شکرگزاری کی علامت قرار دیا گیا۔
کتنا بڑا ہے Cristo Rei؟
اس کی جسامت کا اندازہ تصویر سے شاید مکمل طور پر نہ ہو، لیکن قریب کھڑے ہو کر اس کی بلندی واقعی حیران کرتی ہے۔
- مجسمۂ مسیح: تقریباً 28 میٹر
- اس کا Pedestal: تقریباً 82 میٹر
- دونوں کو ملا کر: تقریباً 110 میٹر
یہ مقام خود دریائے ٹیگس کے مقابل تقریباً 113 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں سے لزبن، Almada اور دریائے ٹیگس کا شاندار نظارہ دکھائی دیتا ہے۔
پھیلے ہوئے بازو آخر کیا ظاہر کرتے ہیں؟
یہ شاید اس یادگار کا سب سے خوبصورت علامتی پہلو ہے۔
Cristo Rei کے دونوں بازو صلیب کی شکل میں کھلے ہوئے ہیں۔ اس انداز کو استقبال، محبت اور پوری انسانیت کو اپنی طرف بلانے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس کے نیچے چار بڑے ستون اور محرابیں چار بنیادی سمتوں کی نمائندگی کرتی ہیں، جبکہ محراب فتح کی علامت ہے۔ اس تصور کے پیچھے پیغام یہ ہے کہ دنیا میں محبت غالب آئے۔
مجسمے میں Sacred Heart نمایاں ہے، جو مسیحی روایت میں حضرت عیسیٰؑ کی انسانیت سے محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
تصویر کھنچواتے ہوئے ایک دلچسپ احساس
اور یہاں میری اپنی تصویر بھی اس یادگار کے تصور کے ساتھ اتفاقاً بڑی دلچسپ بن گئی۔
میرے پیچھے Cristo Rei کے بازو کھلے ہوئے ہیں اور میں نے بھی نیچے کھڑے ہو کر اپنے دونوں بازو پھیلا دیے۔ تصویر دیکھنے میں شاید ایک سیاحتی لمحہ محسوس ہو، مگر اس مقام کی پوری تاریخ جاننے کے بعد اس تصویر کا مفہوم میرے لیے کچھ اور ہوگیا۔
اوپر ایک یادگار جس کے پھیلے ہوئے بازو محبت اور امن کی علامت ہیں، اور نیچے ایک مسافر جو ایک مختلف مذہب، مختلف ملک اور مختلف ثقافت سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اسی امن کے پیغام کے سامنے کھڑا ہے۔
ایک مسلمان مسافر کی نظر سے
میرے لیے اس مقام کی خوبصورتی صرف اس کے فنِ تعمیر یا اس کی بلندی میں نہیں۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے لیے بھی اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں۔ مسیحی اور اسلامی عقائد میں ان کا مقام اور مذہبی تعبیر یقیناً مختلف ہے، لیکن حضرت عیسیٰؑ کا نام دونوں عظیم مذہبی روایات میں انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔
اور شاید ایک مسافر کے لیے تاریخی مقامات دیکھنے کا اصل فائدہ بھی یہی ہے کہ ہم صرف پتھر، عمارتیں اور مجسمے نہ دیکھیں بلکہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کے پیچھے انسانوں کے خوف، امید، عقیدے اور امن کی خواہش کی کیا کہانی چھپی ہوئی ہے۔
Cristo Rei بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔
اس کا تصور برازیل کے ایک مجسمے کو دیکھ کر پیدا ہوا، دوسری جنگِ عظیم نے اسے ایک نئی معنویت دی، پرتگالی عوام نے اس کے لیے چندہ دیا، اور بالآخر 1959 میں یہ لزبن کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
آج چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کے بازو اسی طرح کھلے ہیں۔
اور شاید ایک عام سیاح کے لیے اس جگہ کا سب سے خوبصورت پیغام یہی ہے:
قومیں، مذاہب اور تاریخیں مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن امن کی خواہش پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہے۔
— سید انور واسطی، پرتگال کے سفر سے
Frequently Asked Questions
What is Cristo Rei in Lisbon?
Cristo Rei (Christ the King) is a monumental statue of Jesus with outstretched arms on the Almada hills across the Tagus River from Lisbon, Portugal. The statue and pedestal together stand about 110 meters tall, on a site roughly 113 meters above the river.
Why was Cristo Rei built?
The idea was inspired by Rio de Janeiro’s Christ the Redeemer. During WWII, Portuguese bishops vowed to build a monument if Portugal remained safe from the war. After neutrality largely spared the country, fundraising — including children’s “small stones” donations — helped complete it. It opened on 17 May 1959 as a national symbol of gratitude and peace.
Who wrote this Urdu article?
Syed Anwar Wasti, founder of FromSialkot, wrote this reflection after visiting Cristo Rei during his recent trip to Portugal.