وہ امریکہ جہاں لوگ بال کٹوانے اور ٹوائلٹ پیپر تک کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے
غربت، فوڈ اسٹیمپس میں کمی اور نسل در نسل محرومی—Nicholas Kristof کا ایک ہزار میل کا سفر ایک مختلف امریکہ سامنے لے آیا۔
غربت، فوڈ اسٹیمپس میں کمی اور نسل در نسل محرومی—Nicholas Kristof کا ایک ہزار میل کا سفر ایک مختلف امریکہ سامنے لے آیا
نیویارک ٹائمز کی رپورٹنگ اور Nicholas Kristof کے تجزیے پر مبنی خصوصی اردو رپورٹ
امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور مواقع کی سرزمین کہا جاتا ہے، لیکن اسی ملک میں ایسے لاکھوں افراد بھی موجود ہیں جن کے لیے بال کٹوانا، ٹوائلٹ پیپر خریدنا، کرایہ دینا یا بچوں کے لیے کھانا مہیا کرنا بھی ایک مشکل فیصلہ بن چکا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے معروف کالم نگار اور دو مرتبہ Pulitzer Prize جیتنے والے صحافی Nicholas Kristof نے Oklahoma، Arkansas، Tennessee اور Kentucky کے علاقوں میں تقریباً ایک ہزار میل کا سفر کرکے امریکی غربت، منشیات، انسانی اسمگلنگ اور سماجی محرومی کا جائزہ لیا۔
اس سفر کے دوران سامنے آنے والی کہانیاں ایک ایسے امریکہ کی تصویر پیش کرتی ہیں جو خوشحال شہری علاقوں سے بہت مختلف ہے۔
بینک میں صرف $3.78 اور گزارے کے لیے خون کا پلازما فروخت
Oklahoma City میں Kristof کی ملاقات 44 سالہ Trinity Goodman سے ہوئی۔
ان کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہفتے میں دو مرتبہ blood plasma فروخت کرتی ہیں۔
ان کے مطابق ان کے checking account میں صرف 3 ڈالر 78 سینٹ، savings account میں محض ایک سینٹ اور گھر کی گلک میں چھ pennies تھیں۔
یعنی یہی تقریباً ان کے تمام مالی اثاثے تھے۔
Goodman ماہانہ $298 کے SNAP فوڈ بینیفٹس پر انحصار کرتی ہیں، لیکن ان فوائد سے ٹوائلٹ پیپر یا خواتین کی صفائی کی بہت سی بنیادی اشیا نہیں خریدی جا سکتیں۔ اس لیے وہ چرچ اور خیراتی اداروں سے یہ سامان حاصل کرتی ہیں۔
بال کٹوانا بھی ان کے لیے ایک luxury ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی باقاعدہ barber یا salon سے بال نہیں کٹوائے کیونکہ وہ اس خرچ کی استطاعت نہیں رکھتیں۔
غربت صرف پیسوں کی کمی نہیں
Kristof کے مضمون کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ امریکی غربت کو صرف کم آمدنی سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
ان کی رپورٹنگ میں بار بار ایک ہی سلسلہ سامنے آتا ہے:
بچپن کا صدمہ → ناقص تعلیم → خاندانی عدم استحکام → منشیات → بے روزگاری → بے گھری → جیل → اگلی نسل میں وہی مسائل۔
Goodman کے مطابق ان کا بچپن شدید صدمات سے بھرا ہوا تھا اور وہ بعد میں کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔ انہوں نے disability benefits کے لیے درخواست دی، جو مسترد ہوگئی، اور وہ اب اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہیں۔
چھ بچوں کی ماں، نوکری کے باوجود کرایہ ادا کرنے سے قاصر
Arkansas کے شہر Pine Bluff میں Kristof نے 31 سالہ Latoya Foster سے ملاقات کی۔
وہ چھ بچوں کی اکیلی ماں ہیں اور Taco Bell میں shift manager کی حیثیت سے $13.40 فی گھنٹہ کماتی ہیں۔
انہیں پہلے تقریباً $1,172 ماہانہ food stamps ملتے تھے، لیکن مئی میں ان کی امداد بند ہوگئی۔
Foster کا کہنا ہے کہ سرکاری نظام میں ان کے بچوں کے benefits کے حوالے سے کوئی غلطی ہوئی ہے، جسے وہ درست کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
فوڈ اسٹیمپس بند ہونے کے بعد وہ کرایے میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ ان کا ماہانہ کرایہ $650 ہے، جبکہ عدم ادائیگی پر ان پر روزانہ $25 late fee بڑھ رہی ہے۔
Kristof سے گفتگو کرتے ہوئے وہ رو پڑیں اور کہا:
“میں ہر روز rock bottom پر پہنچتی ہوں۔ جتنا زیادہ کام کرتی ہوں، زندگی اتنی ہی مشکل ہوتی جاتی ہے۔”
فوڈ اسٹیمپس میں لاکھوں افراد کی کمی
مضمون میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال میں تقریباً 15 لاکھ بچے SNAP فوڈ امداد سے باہر ہوئے ہیں۔
تازہ دستیاب تحقیق اس بڑے رجحان کی تائید کرتی ہے۔ Center on Budget and Policy Priorities کے جولائی 2026 کے تجزیے کے مطابق 2025 کی وفاقی قانون سازی کے بعد SNAP participation میں مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زیادہ افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اندازاً 15 لاکھ سے زیادہ بچے بھی فوائد سے محروم ہوئے۔
یہ ضروری ہے کہ ان نمبروں کو سیاسی بحث سے الگ رکھتے ہوئے سمجھا جائے: بعض کمی اہلیت کے نئے قواعد، work requirements اور انتظامی پیچیدگیوں سے منسلک ہے، جبکہ حکومت اور پروگرام کے حامی اس کے اثرات کی مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں۔
ہیلتھ انشورنس میں بھی بڑی کمی
رپورٹ میں Obamacare یعنی Affordable Care Act کے تحت insurance coverage میں لاکھوں افراد کی کمی کا بھی ذکر ہے۔
2026 کے سرکاری enrollment data پر مبنی آزاد تجزیوں کے مطابق ACA Marketplace میں February 2025 کے تقریباً 21.8 ملین enrolled افراد کے مقابلے میں February 2026 میں تقریباً 19.2 ملین افراد باقی رہ گئے۔
یعنی تقریباً 26 لاکھ افراد کی کمی۔
اس کمی کا ایک بڑا پس منظر enhanced premium tax credits کا ختم ہونا بتایا جا رہا ہے، جس کے بعد بہت سے صارفین کے لیے ماہانہ insurance premiums بڑھ گئے۔
Courtney Williams: نظام نے بچپن میں نہیں بچایا، مگر جیل کا خرچ اٹھایا
Kristof کی ملاقات 31 سالہ Courtney Williams سے بھی ہوئی۔
Williams نے اپنا بچپن foster-care system میں گزارا۔ ان کے مطابق مختلف گھروں اور ریاستوں میں منتقل ہوتے ہوئے انہیں شدید عدم تحفظ، بھوک اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کم عمری میں منشیات کا استعمال شروع کیا، تعلیم مکمل نہ کر سکیں اور بعد میں کئی مرتبہ جیل بھی گئیں۔
Kristof اس مثال کے ذریعے ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں:
اگر ریاست کسی بچے پر ابتدائی عمر میں تعلیم، تحفظ، ذہنی صحت اور خاندانی استحکام کے لیے خرچ نہیں کرتی، تو کیا بعد میں اسے جیل، پولیس، منشیات کے علاج اور بے گھری کی صورت میں کہیں زیادہ قیمت نہیں چکانی پڑتی؟
ایک بچے سے وفاقی مقدمے تک
Pine Bluff میں Kristof نے تقریباً دس سال قبل Emanuel Laster نامی ایک 13 سالہ لڑکے سے ملاقات کی تھی۔
وہ ذہین اور خوش اخلاق تھا، لیکن ایک ایسے علاقے میں رہتا تھا جہاں غربت اور جرائم عام تھے۔
دس سال بعد Kristof اسے دوبارہ تلاش کرنے نکلے۔
Laster ہائی اسکول مکمل نہ کر سکا، قانون کے ساتھ مسائل پیدا ہوئے، اور اب وہ federal gun charges پر مقدمے کا منتظر ہے۔
اس کے دو کم عمر بیٹے ہیں، جو اپنی والدہ Autumn Holman کے ساتھ رہتے ہیں۔ خاندان eviction کے بعد مستقل گھر کے بغیر دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ عارضی طور پر رہ رہا تھا۔
Kristof کے لیے یہ کہانی اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح ایک نسل کے مسائل اگلی نسل تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
سیاسی پہلو: الزام صرف ایک پارٹی پر نہیں
Kristof موجودہ Trump administration اور Republican policies پر SNAP، Medicaid اور دیگر سماجی پروگراموں میں کٹوتیوں کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں۔
لیکن ان کا مضمون صرف Republicans پر الزام لگانے تک محدود نہیں۔
وہ Democrats کی حکمرانی والی ریاستوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہیں، خصوصاً California، Oregon اور Hawaii میں homelessness کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ بعض liberal ریاستیں housing کو انسانی حق قرار دیتی ہیں، لیکن انہی جگہوں پر عام اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائش خریدنا یا کرایہ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے۔
وہ تعلیمی نتائج میں بعض Republican ریاستوں، خصوصاً Mississippi، Louisiana اور Alabama، میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کرتے ہیں۔
یعنی Kristof کا بنیادی اعتراض کسی ایک سیاسی جماعت سے زیادہ امریکی سیاسی نظام کی اجتماعی ناکامی پر ہے۔
پوسٹ مارٹم — اصل مسئلہ کیا ہے؟
اس رپورٹ کی سب سے اہم بات غربت کے انفرادی واقعات نہیں بلکہ ان واقعات کے درمیان موجود تعلق ہے۔
اگر ایک بچہ:
- غربت میں پیدا ہو
- خراب اسکول میں جائے
- گھر میں abuse یا addiction دیکھے
- foster care میں غیر محفوظ رہے
- تعلیم مکمل نہ کرے
- اور پھر روزگار یا رہائش نہ حاصل کر سکے—
تو محض یہ کہنا کہ اسے “اپنی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے” پورا مسئلہ بیان نہیں کرتا۔
دوسری جانب فرد کی اپنی ذمہ داری کو مکمل طور پر ختم کرنا بھی درست تصویر نہیں پیش کرتا۔
Kristof اسی دوہرے نکتے پر زور دیتے ہیں:
Personal responsibility ضروری ہے، لیکن collective responsibility بھی ضروری ہے۔
لوگ غلط فیصلے کر سکتے ہیں، لیکن حکومت اور معاشرہ بھی ناکام اسکول، ناقص foster care، مہنگی housing اور پیچیدہ welfare systems کے ذریعے حالات کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔
Nutshell | ایک نظر میں پوری خبر
امریکہ میں غربت صرف بے روزگاری کا مسئلہ نہیں رہی۔
کئی لوگ ملازمت کرنے کے باوجود خوراک، کرایہ، صحت، ٹرانسپورٹ اور بنیادی گھریلو اشیا کا خرچ برداشت نہیں کر پا رہے۔
Nicholas Kristof کی رپورٹنگ کے مطابق:
- بعض امریکی بنیادی ضروریات کے لیے blood plasma فروخت کر رہے ہیں۔
- لاکھوں افراد SNAP food assistance سے باہر ہوئے ہیں۔
- ACA Marketplace health coverage میں بھی 2026 میں نمایاں کمی آئی ہے۔
- غربت اکثر childhood trauma، ناقص تعلیم، addiction، homelessness اور incarceration کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
- مسئلہ صرف Republicans یا Democrats کا نہیں؛ مختلف سطحوں پر دونوں جماعتوں کی حکومتوں کو ناکامیوں کا سامنا ہے۔
- سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ غربت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہے۔
Bottom Line
امریکہ کی معیشت مجموعی طور پر بہت بڑی اور خوشحال ہے، مگر قومی خوشحالی کے اعداد و شمار ہر خاندان کی زندگی کی عکاسی نہیں کرتے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ امیر ہے یا غریب۔ سوال یہ ہے کہ اس دولت اور مواقع تک کتنے امریکیوں کی عملی رسائی ہے۔
ماخذ و کریڈٹ: The New York Times Opinion — Nicholas Kristof, “Meet the Americans Who Can’t Afford Haircuts or Toilet Paper,” Aug. 1, 2026.
اردو ترتیب، پس منظر اور تجزیہ: ادارتی ڈیسک
Frequently Asked Questions
What is this Urdu Papers article based on?
It is based on New York Times Opinion reporting and analysis by Nicholas Kristof, “Meet the Americans Who Can’t Afford Haircuts or Toilet Paper,” dated Aug. 1, 2026, with Urdu framing and editorial analysis.
Which states did Kristof travel through?
According to the report summarized here, he traveled roughly 1,000 miles through parts of Oklahoma, Arkansas, Tennessee, and Kentucky to examine poverty, addiction, trafficking, and social hardship.
What is the main takeaway?
The piece argues U.S. poverty is not only low income: childhood trauma, weak schooling, addiction, homelessness, and incarceration often form a cycle across generations — and both personal and collective responsibility matter.