چاند کا مالک کون ہے؟ نئی خلائی دوڑ نے نصف صدی پرانے قانون کے سامنے بڑا سوال کھڑا کردیا
1967 کا عالمی معاہدہ کسی ملک کو چاند پر قبضے کی اجازت نہیں دیتا، مگر امریکہ، چین، دوسری عالمی طاقتیں اور نجی کمپنیاں اب چاند کے وسائل میں مستقبل کی دولت دیکھ رہی ہیں
نیویارک — چاند آخر کس کی ملکیت ہے؟
بظاہر اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے: کسی کی نہیں۔
لیکن خلائی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی، حکومتوں کے نئے قمری منصوبوں اور نجی کمپنیوں کی بڑھتی دلچسپی نے اس سادہ جواب کو اب ایک پیچیدہ قانونی اور معاشی سوال میں تبدیل کردیا ہے۔
The New York Times کی Selam Gebrekidan کی 4 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق نصف صدی سے زیادہ عرصہ پہلے دنیا کی بڑی طاقتوں نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ کوئی ملک چاند یا دوسرے اجرامِ فلکی کو اپنی قومی ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ چاند کی زمین پر قومی ملکیت کا دعویٰ تو ممنوع ہے، لیکن چاند سے حاصل کیے جانے والے پانی، معدنیات اور دوسرے وسائل کے استعمال اور ملکیت پر ایک نئی عالمی بحث تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
1967 میں دنیا نے کیا فیصلہ کیا تھا؟
امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ اپنے عروج پر تھی تو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں کوئی طاقت چاند پر پہنچ کر اس کے کسی حصے پر اپنی ملکیت یا خودمختاری کا اعلان نہ کردے۔
اسی پس منظر میں Outer Space Treaty of 1967 وجود میں آیا۔
اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ تھا کہ outer space، Moon اور دوسرے celestial bodies پر کوئی ملک sovereignty، occupation یا کسی دوسرے طریقے سے قومی ملکیت قائم نہیں کرسکتا۔
یعنی امریکہ چاند پر جھنڈا لگانے سے اس زمین کا مالک نہیں بن گیا، اور مستقبل میں کوئی دوسرا ملک وہاں base قائم کرکے اس علاقے کو اپنی قومی سرزمین قرار نہیں دے سکتا۔
اقوام متحدہ کے خلائی قانونی نظام میں یہی اصول آج بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تو پھر تنازع کہاں ہے؟
اصل مسئلہ زمین اور resources کے درمیان فرق سے پیدا ہوتا ہے۔
فرض کریں کوئی کمپنی چاند پر پہنچ کر وہاں سے برف، پانی یا کسی معدنی مادے کو نکالتی ہے۔
کیا وہ کمپنی اس material کی مالک بن سکتی ہے؟
امریکہ کا جواب بڑی حد تک ہاں ہے۔
2015 کے امریکی قانون کے تحت کوئی امریکی شہری یا مجاز تجارتی ادارہ قانونی طور پر حاصل کیے گئے space resources کو possess, own, transport, use and sell کرسکتا ہے۔
لیکن اسی قانون میں Congress نے واضح کیا کہ امریکہ اس کے ذریعے چاند یا کسی دوسرے celestial body پر sovereignty یا ownership کا دعویٰ نہیں کررہا۔ (U.S. Code)
سادہ مثال سے اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے:
چاند کی زمین آپ کی نہیں، لیکن وہاں سے قانونی طور پر نکالا گیا resource بعض قوانین کے تحت آپ کی ملکیت بن سکتا ہے۔
یہی distinction مستقبل کی خلائی معیشت کے سب سے بڑے قانونی سوالات میں سے ایک ہے۔
چاند پر آخر ایسی کون سی دولت موجود ہے؟
چاند اب صرف scientific exploration کی منزل نہیں رہا۔
سائنس دان اور خلائی ادارے وہاں موجود water ice، oxygen-bearing regolith، hydrogen، helium-3 اور دوسرے minerals کے ممکنہ استعمال پر تحقیق کررہے ہیں۔
NASA کے مطابق lunar resources مستقبل میں astronauts کے لیے پانی، life-support systems، توانائی اور حتیٰ کہ propulsion یا rocket fuel سے متعلق ضروریات میں مدد دے سکتے ہیں۔ NASA نے 2026 میں lunar soil سے hydrogen اور helium-3 جیسے resources نکالنے والی technologies کی development کے لیے بھی funding دی ہے۔ (NASA)
یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے:
چاند میں وسائل موجود ہونا اور ان سے فوری طور پر اربوں ڈالر کا منافع کمانا ایک ہی بات نہیں۔
انہیں تلاش کرنا، نکالنا، process کرنا اور استعمال یا زمین تک پہنچانا انتہائی مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل ہوسکتا ہے۔
اسی لیے آج کی “Moon Economy” بڑی حد تک مستقبل کی possibility ہے، مکمل طور پر قائم شدہ industry نہیں۔
NASA پہلے ہی Moon Resources کی خریداری آزما چکا ہے
یہ محض نظریاتی بحث بھی نہیں رہی۔
2020 میں NASA نے چار commercial companies کو چاند سے معمولی مقدار میں lunar soil یا regolith جمع کرنے کے contracts دیے تھے۔
منصوبے کے تحت material جمع ہونے کے بعد اس کی ownership NASA کو transfer ہونا تھی۔
NASA نے اس وقت واضح کیا تھا کہ مقصد یہ دکھانا بھی ہے کہ space resources کے extraction اور transfer کو موجودہ international obligations کے مطابق کس طرح انجام دیا جاسکتا ہے۔ (NASA)
یعنی دنیا عملی طور پر اس سوال کی طرف بڑھ چکی ہے کہ:
چاند کو own کیے بغیر چاند کی چیزوں کا commercial استعمال کیسے کیا جائے؟
Artemis Accords — نئے قواعد بنانے کی کوشش
امریکہ اور اس کے partners نے 2020 میں Artemis Accords شروع کیے۔
ان اصولوں میں peaceful exploration، transparency، scientific data sharing، historic sites کا تحفظ، space resources کا استعمال اور مختلف ممالک کی سرگرمیوں کے درمیان harmful interference روکنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
ستمبر 2026 تک 76 ممالک Artemis Accords پر دستخط کرچکے ہیں۔ (NASA)
NASA کا مؤقف ہے کہ چاند، مریخ اور asteroids سے resources نکالنا Outer Space Treaty کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ (NASA)
لیکن یہی interpretation مستقبل کی قانونی بحث کا ایک اہم مرکز ہے۔
چین بھی پیچھے نہیں
چین بھی چاند پر طویل مدتی موجودگی کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
چینی حکومت کے مطابق اس کے International Lunar Research Station منصوبے کا بنیادی مرحلہ 2035 تک Moon کے South Pole کے علاقے میں قائم کرنے کا ہدف ہے۔
چینی منصوبے میں scientific research کے ساتھ limited-scale resource development and utilization بھی شامل ہے۔ (State Council of China)
اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کی lunar competition صرف امریکہ اور private billionaires کی کہانی نہیں۔
یہ بڑی طاقتوں کے درمیان technology، science، strategic presence اور resources کے قواعد طے کرنے کی دوڑ بھی بنتی جارہی ہے۔
ایک دوسرا معاہدہ بھی ہے — مگر اسے وسیع حمایت نہیں ملی
1979 میں Moon Agreement بنایا گیا، جس میں Moon اور اس کے natural resources کو “common heritage of mankind” کے تصور سے جوڑا گیا اور surface، subsurface اور وہاں موجود resources پر ownership کے خلاف زیادہ واضح زبان استعمال کی گئی۔
لیکن یہ معاہدہ عالمی سطح پر Outer Space Treaty جیسی قبولیت حاصل نہیں کرسکا۔
اقوام متحدہ کے موجودہ ریکارڈ کے مطابق اس کے صرف 17 parties ہیں۔ (United Nations Treaty Collection)
اسی لیے Moon governance کا قانونی نظام آج بھی مکمل طور پر settled نہیں ہے۔
غیر جانب دار تجزیہ: اصل مسئلہ ملکیت سے زیادہ “استعمال” کا ہے
آج کوئی ملک قانونی طور پر یہ اعلان نہیں کرسکتا:
“چاند کا یہ حصہ ہمارا ملک ہے۔”
لیکن مستقبل کا مشکل سوال شاید یہ ہوگا:
“اگر ہم یہاں پہلے پہنچے، infrastructure بنایا اور resources نکالنا شروع کیے تو دوسرا ملک یا کمپنی کتنی قریب آکر یہی کام کرسکتی ہے؟”
یہاں سے ownership کے بجائے access، extraction، safety zones، interference اور commercial rights کی بحث شروع ہوتی ہے۔
Artemis Accords مثال کے طور پر temporary “safety zones” کے تصور کے ذریعے مختلف operations کے درمیان harmful interference سے بچنے کی بات کرتے ہیں۔ NASA کہتا ہے کہ یہ zones territorial ownership نہیں ہیں اور operation ختم ہونے کے ساتھ ختم ہونے چاہئیں۔ (NASA)
مگر عملی دنیا میں سوال پیدا ہوسکتا ہے:
اگر کسی ملک یا کمپنی نے چاند کے ایک انتہائی قیمتی مقام پر بڑے پیمانے پر infrastructure قائم کردیا تو کیا دوسروں کی رسائی حقیقتاً محدود ہوجائے گی، چاہے قانونی طور پر اس جگہ پر ownership کا دعویٰ نہ بھی کیا گیا ہو؟
یہ وہ مقام ہے جہاں قانون اور عملی طاقت ایک دوسرے کے سامنے آسکتے ہیں۔
کیا مستقبل میں چاند بھی زمین جیسی معاشی دوڑ بن سکتا ہے؟
ممکن ہے، لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک طرف commercial companies اور governments چاند کو future economy، scientific research اور Mars missions کے stepping stone کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
دوسری طرف خدشہ یہ ہے کہ اگر واضح بین الاقوامی قواعد پہلے طے نہ ہوئے تو مستقبل میں زیادہ technologically advanced ممالک اور corporations بہترین lunar locations اور resources تک پہلے پہنچ سکتے ہیں۔
تب سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ:
“چاند کس کا ہے؟”
بلکہ یہ ہوگا:
“چاند تک برابر رسائی کس کو حاصل ہے، وسائل کون نکال سکتا ہے، کتنے نکال سکتا ہے اور تنازع ہونے کی صورت میں فیصلہ کون کرے گا؟”
Bottom Line
1967 کے بنیادی اصول کے تحت:
کوئی ملک چاند کو اپنی قومی ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔
لیکن 21ویں صدی کا سوال اس سے آگے نکل چکا ہے۔
امریکی قانون space resources حاصل کرنے والے امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان resources کو رکھنے، استعمال کرنے اور فروخت کرنے کے حقوق دیتا ہے، جبکہ واضح کرتا ہے کہ اس کا مطلب celestial body پر امریکی sovereignty نہیں۔ (U.S. House of Representatives)
NASA اور Artemis Accords بھی resource extraction کو Outer Space Treaty کے ساتھ compatible سمجھتے ہیں، جبکہ چین سمیت دوسری طاقتیں بھی مستقل lunar presence اور resource utilization کی تیاری کررہی ہیں۔ (NASA)
اس لیے شاید آنے والی دہائیوں کا اصل سوال “Who owns the Moon?” نہیں ہوگا۔
اصل سوال یہ ہوگا:
“چاند کسی کا نہیں، تو پھر اس کی دولت سے فائدہ اٹھانے کا حق کس کا اور کتنا ہوگا؟”
یہی وہ سوال ہے جس کا مکمل اور عالمی طور پر متفقہ جواب ابھی دنیا کے پاس موجود نہیں۔
اصل رپورٹ: Selam Gebrekidan — The New York Times
تاریخ: October 4, 2026
اضافی تحقیق و تصدیق: United Nations، NASA اور U.S. federal law
تحقیق و تجزیے میں AI کی معاونت بھی حاصل کی گئی۔
Frequently Asked Questions
Who owns the Moon under international law?
Under the Outer Space Treaty of 1967, no country may claim national sovereignty or ownership over the Moon or other celestial bodies. The Moon is not anyone’s national territory.
Can companies own resources extracted from the Moon?
U.S. law generally allows American citizens and authorized commercial entities to possess, own, transport, use, and sell legally obtained space resources — while stating that does not claim U.S. sovereignty over the celestial body itself.
What is the real future question about the Moon?
Not simply who owns the Moon, but who may benefit from its resources, how much they may extract, who gets equal access, and who decides disputes if conflicts arise.