امریکی قومی قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
ریگن سے ٹرمپ تک قرض میں کتنا اضافہ ہوا، کلنٹن دور کے بجٹ سرپلس کے باوجود مجموعی قرض کیوں بڑھا، اور عام امریکی کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
ریگن سے ٹرمپ تک قرض میں کتنا اضافہ ہوا، کلنٹن دور کے بجٹ سرپلس کے باوجود مجموعی قرض کیوں بڑھا، اور عام امریکی کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
واشنگٹن، 20 اگست 2026 | خصوصی رپورٹ
امریکہ کا مجموعی قومی قرض پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی تاریخی حد عبور کر گیا ہے، جس کے بعد واشنگٹن میں وفاقی بجٹ خسارے، بڑھتی ہوئی سود کی ادائیگیوں اور ملک کے طویل مدتی مالی مستقبل پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
U.S. Treasury کے اعداد کے مطابق امریکی Gross National Debt تقریباً $40.05 ٹریلین تک پہنچ گیا۔ Associated Press نے 19 اگست کو اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکہ صرف چند ماہ قبل مارچ میں $39 ٹریلین اور گزشتہ اکتوبر میں $38 ٹریلین کی سطح پر پہنچا تھا۔
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف 40 ٹریلین کے بڑے ہندسے کا نہیں، بلکہ قرض بڑھنے کی رفتار کا بھی ہے۔
امریکہ پر اتنا قرض کیوں چڑھ گیا؟
امریکی قومی قرض کسی ایک صدر، ایک کانگریس یا ایک سیاسی جماعت کی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں۔
کئی دہائیوں سے وفاقی حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان مستقل فرق موجود ہے۔ جب حکومت ٹیکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو اس فرق کو پورا کرنے کے لیے اسے قرض لینا پڑتا ہے۔
وفاقی اخراجات میں Social Security، Medicare، Medicaid، دفاع، جنگیں، معاشی بحرانوں کے دوران امدادی پیکجز، قدرتی آفات، Covid-19 کے دوران غیر معمولی سرکاری اخراجات اور قومی قرض پر سود شامل ہیں۔
اس کے ساتھ مختلف ادوار میں ٹیکسوں میں کمی اور نئی حکومتی پالیسیوں نے بھی وفاقی revenues اور deficits پر اثر ڈالا۔
Congressional Budget Office نے فروری 2026 کی اپنی baseline projection میں اندازہ لگایا تھا کہ مالی سال 2026 میں وفاقی حکومت تقریباً $7.4 ٹریلین خرچ کرے گی، جبکہ revenues تقریباً $5.6 ٹریلین ہوں گے۔
نتیجتاً مالی سال کا deficit تقریباً $1.9 ٹریلین رہنے کی projection دی گئی تھی۔
یعنی بنیادی مسئلہ آسان الفاظ میں یہ ہے: حکومت مسلسل اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر رہی ہے، اور یہ فرق نئے قرض سے پورا کیا جا رہا ہے۔
ریگن سے ٹرمپ تک قرض میں کتنا اضافہ ہوا؟
گزشتہ تقریباً ساڑھے چار دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو قومی قرض تقریباً ہر صدارتی دور میں بڑھا ہے۔
تقابلی historical figures کے مطابق Ronald Reagan کے اقتدار سنبھالنے کے وقت امریکی قومی قرض تقریباً $1 ٹریلین کے قریب تھا۔
اس کے بعد مختلف صدارتی ادوار میں gross federal debt تقریباً یوں بڑھا:
- رونالڈ ریگن، 1981–1989: تقریباً $0.99T سے $2.86T — اضافہ تقریباً +$1.86T
- جارج ایچ ڈبلیو بش، 1989–1993: تقریباً $2.86T سے $4.35T — اضافہ تقریباً +$1.49T
- بل کلنٹن، 1993–2001: تقریباً $4.35T سے $5.81T — اضافہ تقریباً +$1.46T
- جارج ڈبلیو بش، 2001–2009: تقریباً $5.81T سے $11.91T — اضافہ تقریباً +$6.10T
- باراک اوباما، 2009–2017: تقریباً $11.91T سے $19.95T — اضافہ تقریباً +$8.04T
- ڈونلڈ ٹرمپ، پہلا دور، 2017–2021: تقریباً $19.95T سے $27.75T — اضافہ تقریباً +$7.80T
- جو بائیڈن، 2021–2025: تقریباً $27.75T سے $36.22T — اضافہ تقریباً +$8.47T
- ڈونلڈ ٹرمپ، دوسرا دور، 2025–اب تک: تقریباً $36.22T سے $40T+ — اضافہ تقریباً +$3.8T اب تک
یہ اعداد ایک تقابلی پیمائش ہیں، انہیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ متعلقہ صدر نے ذاتی طور پر اتنی رقم قرض لی۔
امریکی وفاقی بجٹ میں صدر کے ساتھ Congress کا بنیادی آئینی کردار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر نئی administration کو سابقہ قوانین، entitlement programs، پہلے سے موجود debt، interest obligations اور بعض اوقات جنگ، recession یا pandemic جیسے غیر معمولی حالات بھی ورثے میں ملتے ہیں۔
اسی لیے مختلف ذرائع inauguration dates، calendar dates یا fiscal-year-end figures استعمال کریں تو اعداد میں فرق آسکتا ہے۔
45 برس میں تقریباً ایک ٹریلین سے 40 ٹریلین
اس تمام ڈیٹا کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ 1981 کے آس پاس امریکی قومی قرض تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تھا۔
آج یہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
Nominal terms میں دیکھا جائے تو تقریباً 45 برس میں gross federal debt تقریباً 40 گنا ہو گیا۔
تاہم اس comparison میں inflation اور امریکی معیشت کے کئی گنا بڑے ہونے کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین صرف dollar amount کے بجائے debt-to-GDP ratio کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں۔
کیا بل کلنٹن کے دور میں واقعی امریکہ بجٹ سرپلس میں تھا؟
جی ہاں۔ یہ امریکی مالی تاریخ کا ایک اہم مگر اکثر غلط سمجھے جانے والا حصہ ہے۔
کلنٹن انتظامیہ کے آخری برسوں میں وفاقی حکومت نے مسلسل کئی مالی سالوں میں unified federal budget surplus ریکارڈ کیا۔
- FY1998: $69.3 بلین سرپلس
- FY1999: $125.6 بلین سرپلس
- FY2000: $236.2 بلین سرپلس
- FY2001: $128.2 بلین سرپلس
FY2001 کا fiscal year دونوں administrations پر محیط تھا کیونکہ Bill Clinton جنوری 2001 میں عہدے سے رخصت ہوئے اور George W. Bush نے صدارت سنبھالی۔
پھر کلنٹن کے آٹھ سال میں Gross Debt کیوں بڑھا؟
یہاں budget deficit/surplus اور gross federal debt کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔
Gross federal debt بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: Debt held by the public اور Intragovernmental holdings۔
دوسری category میں وہ حکومتی obligations بھی شامل ہیں جو Treasury مختلف federal trust funds، مثلاً Social Security، کے حوالے سے رکھتا ہے۔
کلنٹن دور کے آخری برسوں میں debt held by the public کم ہوا، جو budget surpluses کا ایک اہم نتیجہ تھا۔
لیکن اسی دوران intragovernmental holdings بڑھنے کی وجہ سے total gross federal debt پورے آٹھ سال کے مجموعی حساب میں پھر بھی زیادہ رہا۔
اس لیے یہ دونوں بیانات ایک ساتھ درست ہوسکتے ہیں: کلنٹن کے آخری برسوں میں وفاقی بجٹ surplus میں تھا اور public debt کم ہوا۔ لیکن ان کے پورے صدارتی دور میں total gross federal debt مجموعی طور پر بڑھا۔
یہ فرق سمجھے بغیر صرف ایک figure استعمال کرنا گمراہ کن سیاسی نتیجے تک پہنچا سکتا ہے۔
اصل خطرہ: قرض کے ساتھ سود بھی بڑھ رہا ہے
قومی قرض کے حجم سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس قرض کی servicing پر کتنی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔
جب interest rates بلند ہوں اور پرانا قرض mature ہونے پر نسبتاً زیادہ شرح پر refinance کرنا پڑے تو federal interest expense تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
CBO کے مطابق آنے والے برسوں میں بڑھتے ہوئے net interest costs وفاقی deficits میں اضافے کی بڑی وجوہات میں شامل ہوں گے۔
اسے ایک ممکنہ خطرناک cycle کی شکل میں یوں سمجھا جاسکتا ہے: زیادہ قرض → زیادہ سود → بڑا deficit → مزید borrowing → مزید interest expense۔
یہی وجہ ہے کہ fiscal analysts صرف $40 trillion کے headline number پر نہیں بلکہ debt servicing cost پر بھی نظر رکھتے ہیں۔
عام امریکی پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
قومی قرض کا مطلب یہ نہیں کہ اگلی صبح ہر امریکی شہری کو حکومت کی طرف سے کوئی bill موصول ہوجائے گا۔
اس کے اثرات زیادہ تر بالواسطہ اور طویل مدتی ہوتے ہیں۔
اگر امریکی حکومت کو سرمایہ کاروں کو Treasury securities خریدنے پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ yield دینی پڑے تو بلند government borrowing costs وسیع credit markets پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ایسے ماحول میں mortgages، auto loans اور business financing نسبتاً مہنگی رہ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر وفاقی بجٹ کا بڑھتا ہوا حصہ interest payments پر خرچ ہونے لگے تو حکومت کے پاس infrastructure، education، defense، healthcare یا دوسرے پروگراموں کے لیے مالی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔
کیا امریکہ دیوالیہ ہونے والا ہے؟
صرف $40 ٹریلین کا ہندسہ دیکھ کر یہ کہنا درست نہیں کہ امریکہ فوری طور پر bankruptcy یا insolvency کی طرف جا رہا ہے۔
امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک، انتہائی وسیع Treasury securities market اور عالمی مالی نظام میں مرکزی حیثیت رکھنے والا U.S. dollar موجود ہے۔
اسی وجہ سے امریکہ کی borrowing capacity عام ممالک سے مختلف ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ borrowing کی کوئی معاشی قیمت نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ: قرض قومی معیشت کے مقابلے میں کتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسے service کرنے پر کتنی رقم خرچ ہورہی ہے؟
2036 تک قرض کہاں پہنچ سکتا ہے؟
Congressional Budget Office کی فروری 2026 baseline کے مطابق debt held by the public مالی سال 2026 میں GDP کے تقریباً 101 فیصد کے برابر رہنے اور 2036 تک بڑھ کر تقریباً 120 فیصد GDP تک پہنچنے کی projection ہے۔
CBO کے مطابق یہ 1946 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے تقریباً 106 فیصد کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہوگا۔
اسی projection میں federal deficit کو 2026 کے تقریباً $1.9 ٹریلین سے بڑھ کر 2036 میں $3.1 ٹریلین تک پہنچتے دکھایا گیا ہے۔
CBO کا کہنا ہے کہ Social Security اور Medicare پر بڑھتے اخراجات کے ساتھ net interest costs آنے والے برسوں میں وفاقی بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈالیں گے۔
ذمہ دار کون ہے؟
اس سوال کا مکمل جواب صرف Republicans یا صرف Democrats نہیں۔
قرض Reagan کے دور میں بڑھا۔ George H.W. Bush کے دور میں بڑھا۔ Clinton کے پورے دور کے gross-debt حساب میں بھی اضافہ ہوا، اگرچہ آخری برسوں میں budget surpluses آئے۔ George W. Bush کے دور میں قرض میں نمایاں اضافہ ہوا۔ Obama، Trump کے پہلے دور اور Biden کے دور میں بھی بڑھا۔ اور اب Trump کے دوسرے دور میں بھی قومی قرض نے $40 ٹریلین کی حد عبور کرلی ہے۔
البتہ ہر administration کے اعداد کو اس دور کے معاشی اور سیاسی حالات کے بغیر compare کرنا بھی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔
Wars، recessions، 2008 financial crisis، Covid-19 pandemic، tax legislation، stimulus programs، entitlement spending اور interest costs نے مختلف ادوار میں مختلف انداز سے قرض پر اثر ڈالا۔
نتیجہ
امریکی قومی قرض کا $40 ٹریلین سے تجاوز کرنا ایک تاریخی milestone ضرور ہے، مگر اصل مالی مسئلہ صرف یہ headline number نہیں۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے اخراجات اور revenues کے درمیان مسلسل بڑا فرق موجود ہے۔
CBO کی موجودہ baseline بھی آنے والی دہائی میں مسلسل بڑے deficits، بڑھتے interest costs اور GDP کے مقابلے میں بڑھتے public debt کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس لیے امریکہ کے مالی مستقبل کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ قومی قرض نے 40 ٹریلین کی حد کب عبور کی۔
اصل سوال یہ ہے: قرض کتنی تیزی سے بڑھتا رہے گا، اس پر سود کتنا ادا کرنا پڑے گا، اور مستقبل کی امریکی حکومتیں revenues اور spending کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کیسے کم کریں گی؟
اگر یہ structural imbalance برقرار رہا تو وفاقی بجٹ کا بڑھتا ہوا حصہ موجودہ عوامی ضروریات کے بجائے ماضی میں لیے گئے قرض کی servicing پر خرچ ہونے کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔
ماخذ و حوالہ
اس رپورٹ کی بنیادی خبر U.S. Treasury کے قومی قرض کے تازہ اعداد اور 19 اگست 2026 کو شائع ہونے والی Associated Press کی رپورٹ “The US national debt now stands at $40 trillion” پر مبنی ہے۔
مالی خسارے، debt-to-GDP اور 2026–2036 projections کے لیے Congressional Budget Office کی “The Budget and Economic Outlook: 2026 to 2036”، 11 فروری 2026 سے استفادہ کیا گیا ہے۔
صدر بہ صدر تاریخی comparison کے لیے U.S. Treasury/Federal debt historical series اور وفاقی historical budget data کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ مختلف cut-off dates کی وجہ سے historical presidential figures میں معمولی فرق ممکن ہے۔
Associated Press — The US national debt now stands at $40 trillion
Frequently Asked Questions
Has the U.S. national debt really passed $40 trillion?
Yes. According to U.S. Treasury figures cited in this report, U.S. Gross National Debt reached about $40.05 trillion. Associated Press confirmed the milestone on August 19, 2026.
Did the U.S. run budget surpluses under Bill Clinton?
Yes. In the late Clinton years the unified federal budget recorded surpluses in FY1998–FY2001. Debt held by the public fell during those surplus years, but total gross federal debt still rose over the full eight-year presidency because intragovernmental holdings increased.
Does a $40 trillion debt mean America is going bankrupt?
No. The report notes that the dollar amount alone does not mean immediate bankruptcy. The U.S. has a large economy, deep Treasury markets, and a globally central currency. The more important questions are how fast debt grows relative to GDP and how much interest servicing costs.
What does CBO project for debt through 2036?
CBO’s February 2026 baseline projects debt held by the public rising from about 101% of GDP in FY2026 to about 120% of GDP by 2036, with the federal deficit growing from roughly $1.9 trillion to about $3.1 trillion over that period.