FromSialkot
FromSialkot

Blog

ہم بھیجتے رہے، وہ حق سمجھتے رہے — ایک “شکریہ” کی کمی
Personal

ہم بھیجتے رہے، وہ حق سمجھتے رہے — ایک “شکریہ” کی کمی

Syed Anwar WastiSeptember 7, 2026

امریکہ میں تقریباً چار دہائیوں سے زیادہ زندگی گزارنے کے بعد میں نے دو معاشروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ایک چیز جس نے مجھے ہمیشہ سوچنے پر مجبور کیا، وہ ہے “شکریہ” کہنے کی اہمیت۔

ہم میں سے بے شمار اوورسیز پاکستانی پردیس میں سخت محنت کرتے ہیں۔ اپنے اخراجات اور ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں والدین، بہن بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں، خوشی غمی میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی کمائی کا ایک حصہ مسلسل وطن بھیجتے ہیں۔

یقیناً والدین کی خدمت ہماری ذمہ داری بھی ہے اور سعادت بھی، اور خاندان کی مدد کرنا ہماری خوبصورت روایات کا حصہ ہے۔ مسئلہ مدد کرنے میں نہیں، مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مدد کو محبت یا قربانی کے بجائے ایک مستقل اور خودکار حق سمجھ لیا جائے۔

میں نے اپنے تجربے میں کئی مرتبہ محسوس کیا ہے کہ جب آپ مسلسل کسی کی مدد کرتے رہیں تو بعض اوقات سامنے والے کے لیے وہ مدد معمول بن جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ احساسِ تشکر کم ہونے لگتا ہے اور یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے کہ شاید یہ تو ملنا ہی تھا۔

امریکہ میں میں نے ایک مختلف رویہ بہت نمایاں دیکھا۔ آپ کسی کو چھوٹا سا تحفہ دیں، کھانا پیش کریں، دروازہ کھول دیں یا معمولی سی مدد کردیں، اکثر فوراً جواب آتا ہے: “Thank you.”

یہ دو الفاظ مالی طور پر کچھ نہیں دیتے، لیکن تعلق میں بہت کچھ شامل کردیتے ہیں۔

میرے نزدیک “شکریہ” کہنا کسی کے سامنے چھوٹا ہونا نہیں۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ میں نے آپ کی محبت، وقت، محنت اور قربانی کو محسوس کیا ہے۔

خاص طور پر آج، لیبر ڈے کے موقع پر، میں اُن تمام پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں محنت کرتے ہیں، اپنے خاندانوں کو سہارا دیتے ہیں اور اپنی کمائی پاکستان بھیج کر وطن کی معیشت میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔

اور وطن میں موجود اپنے پیاروں سے صرف اتنی سی گزارش ہے:

مدد کو حق سمجھنے کے بجائے محبت سمجھیں۔

رقم کے پیچھے چھپی محنت کو محسوس کریں۔

اور کبھی کبھی صرف اتنا کہہ دیا کریں — “شکریہ، ہم آپ کی قدر کرتے ہیں۔”

یقین کیجیے، پردیس میں محنت کرنے والے کے لیے یہ چند الفاظ بعض اوقات بھیجی گئی رقم سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔

— سید انور واسطی

Frequently Asked Questions

What is this Labor Day article about?

Syed Anwar Wasti reflects on decades of life in America and the importance of saying thank you — especially when overseas Pakistanis support family in Pakistan and that help is treated as an automatic right.

Is the author against helping family in Pakistan?

No. He says serving parents and supporting family is both a duty and a blessing. The problem is not helping — it is when help is treated as a permanent entitlement instead of love and sacrifice.

What does he ask families in Pakistan to do?

Treat help as love rather than a right, recognize the hard work behind the money, and sometimes simply say: “Thank you, we value you.”