FromSialkot
FromSialkot

Blog

پرتگال اور ہندوستان کا 450 سالہ تعلق — واسکو ڈی گاما سے گوا کی جنگ تک
History

پرتگال اور ہندوستان کا 450 سالہ تعلق — واسکو ڈی گاما سے گوا کی جنگ تک

Syed Anwar WastiSeptember 3, 2026

تحریر: سید انور واسطی

پرتگال کی سیر کے دوران میرے ذہن میں ایک سوال بار بار آتا رہا کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے سے یورپی ملک کا ہندوستان سے کیا تعلق تھا؟ پرتگالی ہندوستان تک کیسے پہنچے؟ انہوں نے کن علاقوں پر قبضہ کیا؟ جب برطانیہ ہندوستان پر حکومت کر رہا تھا تو گوا میں پرتگالی حکومت کیوں قائم رہی؟ اور پھر 1961 میں ایسا کیا ہوا کہ آزاد ہندوستان اور پرتگال کی فوجیں آمنے سامنے آگئیں؟

اس سوال کا جواب ہمیں پانچ سو سال سے زیادہ پیچھے لے جاتا ہے۔ یہ صرف گوا کی کہانی نہیں بلکہ تجارت، سمندری طاقت، نوآبادیات، مذہب، جنگ اور آزادی کی ایک طویل داستان ہے۔

پرتگال ہندوستان کیسے پہنچا؟

پندرھویں صدی میں ہندوستان اور ایشیا کے مصالحے، کپڑا اور دوسری قیمتی اشیا یورپ میں بہت اہمیت رکھتی تھیں۔ یورپی طاقتیں ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ تلاش کرنا چاہتی تھیں۔

اسی تلاش میں پرتگالی مہم جو واسکو ڈی گاما (Vasco da Gama) افریقہ کے گرد گھومتے ہوئے بحرِ ہند میں داخل ہوا اور 1498 میں کالی کٹ، موجودہ Kozhikode پہنچ گیا۔

یہ عالمی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ یورپ سے ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ قائم ہوگیا۔

تاہم واسکو ڈی گاما کے پہنچنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ پرتگال نے اسی وقت ہندوستان فتح کرلیا۔ ابتدا تجارت سے ہوئی، مگر جلد ہی پرتگالیوں نے بحری طاقت، قلعوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے بحرِ ہند کی تجارت پر اپنا اثر بڑھانا شروع کردیا۔

کالی کٹ سے کوچین تک

کالی کٹ کے حکمران Zamorin کے ساتھ پرتگالی تعلقات جلد کشیدہ ہوگئے۔ اس کے بعد پرتگالیوں نے دوسرے ساحلی حکمرانوں سے تعلقات قائم کیے۔

خصوصاً Cochin، موجودہ Kochi ان کا ایک اہم مرکز بنا اور 1503 میں انہوں نے وہاں Fort Emmanuel تعمیر کیا۔

پرتگالیوں کا بنیادی مقصد صرف زمین حاصل کرنا نہیں بلکہ بحرِ ہند کے تجارتی راستوں اور خصوصاً مصالحوں کی تجارت پر اثر و رسوخ قائم کرنا بھی تھا۔

1510 — گوا پر پرتگالی قبضہ

ہندوستان میں پرتگالی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن واقعہ 1510 میں گوا کی فتح تھا۔

اس وقت گوا سلطنتِ بیجاپور کے زیرِ اقتدار تھا۔ پرتگالی کمانڈر Afonso de Albuquerque نے مقامی اتحادیوں کی مدد سے گوا پر حملہ کیا اور نومبر 1510 میں وہاں مستقل پرتگالی اقتدار قائم ہوگیا۔

یہاں ایک انتہائی دلچسپ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے:

پرتگالیوں نے گوا پر 1510 میں مستقل قبضہ کیا، جبکہ بابر نے 1526 میں دہلی فتح کرکے مغل سلطنت قائم کی۔

یعنی گوا میں پرتگالی اقتدار، ہندوستان میں مغل سلطنت کے قیام سے بھی تقریباً 16 سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔

گوا پرتگالی سلطنت کا اہم ایشیائی مرکز بن گیا

گوا محض ایک چھوٹی ساحلی کالونی نہیں رہا بلکہ پرتگالی سلطنت کے ایشیائی نظام کا ایک انتہائی اہم انتظامی اور تجارتی مرکز بن گیا۔

Old Goa میں تعمیر ہونے والے عظیم گرجا گھر، سرکاری عمارتیں اور پرتگالی طرزِ تعمیر آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔

پرتگال نے پورے ہندوستان پر حکومت نہیں کی

یہ وضاحت ضروری ہے کہ پرتگال نے کبھی پورے ہندوستان پر حکومت نہیں کی۔

مختلف ادوار میں پرتگالیوں نے ہندوستان کے ساحل پر گوا، کوچین، کننور، باسین یعنی موجودہ Vasai، چاؤل، دمن اور دیو سمیت مختلف مقامات پر قلعے، بستیاں یا تجارتی مراکز قائم کیے۔

وقت کے ساتھ ان میں سے بہت سے علاقے ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔

بیسویں صدی تک ان کے اہم باقی ماندہ علاقوں میں:

گوا، دمن، دیو، دادرا اور نگر حویلی شامل تھے۔

پھر برطانیہ کہاں تھا؟

یہ اس تاریخ کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔

جب پرتگالی 1510 میں گوا میں اپنا اقتدار قائم کرچکے تھے، اس وقت برطانیہ ہندوستان کا حکمران نہیں تھا۔

British East India Company کی بنیاد 1600 میں پڑی، یعنی گوا میں پرتگالی اقتدار قائم ہونے کے تقریباً 90 سال بعد۔

1757 کی جنگِ پلاسی کے بعد ہندوستان میں برطانوی سیاسی طاقت تیزی سے بڑھی اور بالآخر برطانیہ برصغیر کی سب سے بڑی نوآبادیاتی طاقت بن گیا۔

یوں ایک وقت ایسا بھی تھا جب:

ہندوستان کے بیشتر حصوں پر برطانوی راج تھا، جبکہ گوا، دمن اور دیو میں پرتگالی اقتدار قائم تھا۔

پرتگالی دور کے دو رخ

آج گوا میں پرتگالی دور کے خوبصورت گرجا گھر، قلعے اور منفرد فنِ تعمیر موجود ہیں، لیکن نوآبادیاتی تاریخ صرف خوبصورت عمارتوں کی کہانی نہیں۔

پرتگالی دور میں سیاسی کنٹرول، مذہبی تبدیلیاں، مزاحمت اور مقامی آبادی کی نقل مکانی جیسے تلخ پہلو بھی موجود تھے۔

دوسری جانب صدیوں کے میل جول نے گوا کی خوراک، موسیقی، زبان، خاندانی ناموں، مذہبی روایات اور فنِ تعمیر پر گہرے پرتگالی اثرات بھی چھوڑے۔

تاریخ کا یہی پیچیدہ پہلو ہے کہ ایک نوآبادیاتی دور ثقافتی اثرات بھی چھوڑتا ہے اور اپنے پیچھے جبر اور مزاحمت کی یادیں بھی۔

1947 — ہندوستان آزاد ہوگیا، لیکن گوا نہیں

15 اگست 1947 کو برطانوی راج ختم ہوا اور ہندوستان آزاد ہوگیا۔

لیکن گوا، دمن اور دیو بدستور پرتگال کے زیرِ انتظام رہے۔

یعنی:

British Raj ختم ہوگیا، لیکن Portuguese Raj ابھی باقی تھا۔

آزاد ہندوستان کا موقف تھا کہ یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کو ہندوستان میں اپنے باقی علاقوں سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔

لیکن پرتگال نے گوا، دمن اور دیو چھوڑنے سے انکار کردیا۔ پرتگالی حکومت انہیں محض کالونیاں کہنے کے بجائے اپنے ملک کے overseas territories تصور کرتی تھی۔

گوا کے اندر آزادی کی تحریک

یہ تنازع صرف دہلی اور Lisbon کے درمیان نہیں تھا۔

گوا کے اندر بھی پرتگالی اقتدار کے خلاف آزادی اور مزاحمت کی تحریک موجود تھی۔ 1946 میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی سرگرمیوں نے اس تحریک کو نئی قوت دی، اگرچہ پرتگالی اقتدار کے خلاف مقامی مزاحمت اس سے بہت پہلے سے جاری تھی۔

1954 میں دادرا اور نگر حویلی پرتگالی انتظامی کنٹرول سے نکل گئے، مگر گوا، دمن اور دیو پرتگال کے پاس رہے۔

1961 — بھارت اور پرتگال آمنے سامنے

سفارتی کوششوں اور طویل کشیدگی کے بعد دسمبر 1961 میں بھارت نے Operation Vijay کے نام سے فوجی کارروائی شروع کردی۔

بھارتی بری، بحری اور فضائی افواج نے گوا، دمن اور دیو میں پرتگالی فوجی پوزیشنوں کے خلاف کارروائی کی۔

یہ جنگ زیادہ طویل نہیں ہوئی۔

19 دسمبر 1961 کو پرتگالی Governor-General Manuel António Vassalo e Silva نے ہتھیار ڈال دیے۔

اس کے ساتھ ہی گوا میں 1510 سے قائم تقریباً 451 سالہ پرتگالی اقتدار ختم ہوگیا۔

آزادی یا حملہ؟ — تاریخ کے دو زاویے

1961 کا واقعہ بین الاقوامی سطح پر متنازع بھی تھا۔

بھارت کا موقف تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے آخری یورپی نوآبادیاتی اقتدار ختم کر رہا ہے اور پرتگال پرامن طریقے سے علاقہ منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

پرتگال نے بھارتی فوجی کارروائی کو جارحیت قرار دیا۔

اسی لیے ہندوستان اور گوا میں اسے عام طور پر “Liberation of Goa” کہا جاتا ہے، جبکہ بعض بین الاقوامی اور تاریخی حوالوں میں اس کے لیے invasion یا annexation جیسی اصطلاحات بھی استعمال ہوئی ہیں۔

تاریخ کو غیر جانب داری سے سمجھنے کے لیے دونوں زاویوں کو جاننا ضروری ہے۔

پرتگال نے فوراً بھارتی حاکمیت تسلیم نہیں کی

1961 میں پرتگالی حکومت عملی طور پر ختم ہوگئی، لیکن پرتگال نے فوراً گوا پر بھارتی حاکمیت تسلیم نہیں کی۔

1974 میں پرتگال کے اندر Carnation Revolution کے بعد آمریت کا خاتمہ ہوا اور نئی حکومت نے اپنی نوآبادیاتی پالیسی تبدیل کردی۔

اس کے بعد پرتگال نے گوا، دمن اور دیو پر ہندوستان کی حاکمیت کو باقاعدہ تسلیم کرلیا۔

گوا آج بھی اس تاریخ کی زندہ تصویر ہے

آج گوا جائیں تو تقریباً ساڑھے چار سو سالہ پرتگالی موجودگی کے آثار جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

Old Goa کے تاریخی چرچ، پرتگالی طرز کے مکانات، Catholic روایات، بعض خاندانی نام، موسیقی اور کھانوں میں اس طویل تعلق کی جھلک آج بھی موجود ہے۔

لیکن گوا کی تاریخ پرتگالیوں سے شروع نہیں ہوتی۔ اس سرزمین کی اپنی قدیم ہندوستانی تاریخ اور تہذیب تھی اور پرتگالی آمد سے پہلے بھی یہاں مختلف مقامی اور علاقائی سلطنتوں کی حکومت رہی۔

1987 میں گوا کو باقاعدہ ہندوستان کی ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔

تاریخ کا ایک حیرت انگیز خلاصہ

  • 1498: واسکو ڈی گاما ہندوستان پہنچا۔
  • 1510: پرتگال نے گوا پر مستقل اقتدار قائم کیا۔
  • 1526: بابر نے دہلی فتح کرکے مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔
  • 1600: British East India Company قائم ہوئی۔
  • 1757: جنگِ پلاسی کے بعد برطانوی سیاسی طاقت تیزی سے بڑھی۔
  • 1947: ہندوستان آزاد ہوا اور British Raj ختم ہوگیا۔
  • 1954: دادرا اور نگر حویلی پرتگالی انتظامی کنٹرول سے نکل گئے۔
  • 1961: Operation Vijay کے بعد گوا، دمن اور دیو میں پرتگالی اقتدار ختم ہوگیا۔
  • 1974: پرتگال میں Carnation Revolution کے بعد نئی حکومت نے بھارتی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی۔
  • 1987: گوا ہندوستان کی مکمل ریاست بن گیا۔

پرتگال اور ہندوستان کی یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہندوستان کی یورپی نوآبادیاتی تاریخ صرف British Raj تک محدود نہیں تھی۔

پرتگالی انگریزوں سے بہت پہلے ہندوستان پہنچے تھے، اور حیرت انگیز طور پر انگریزوں کے جانے کے تقریباً 14 سال بعد تک گوا میں موجود رہے۔

سلطنتیں ہمیشہ قائم نہیں رہتیں، لیکن ان کے چھوڑے ہوئے سیاسی، ثقافتی اور انسانی اثرات صدیوں بعد بھی شہروں، زبانوں، عمارتوں اور لوگوں کی زندگیوں میں دکھائی دیتے رہتے ہیں۔

— سید انور واسطی

Frequently Asked Questions

When did Portugal reach India?

Vasco da Gama reached Calicut (Kozhikode) in 1498 after sailing around Africa into the Indian Ocean. Portuguese political control in Goa began later, in 1510.

Did Portugal rule all of India?

No. Portugal never ruled the whole subcontinent. It held coastal forts and settlements such as Goa, Cochin, Daman, Diu, and others. By the 20th century the remaining Portuguese territories were mainly Goa, Daman, Diu, Dadra, and Nagar Haveli.

Why did Portuguese Goa continue after 1947?

British Raj ended in 1947, but Portugal treated Goa, Daman, and Diu as overseas territories and refused to leave. India annexed them in December 1961 through Operation Vijay.

Who wrote this article?

Syed Anwar Wasti, founder of FromSialkot, wrote this historical essay after questions that arose during his travels in Portugal.