From Sialkot
FromSialkot

Blog

تماشہ سیزن 5: ببرک شاہ کی خاموشی، بردباری اور حکمتِ عملی کی فتح
Culture

تماشہ سیزن 5: ببرک شاہ کی خاموشی، بردباری اور حکمتِ عملی کی فتح

By Syed Anwar WastiOctober 12, 2026

تحریر: سید انور واسطی — نیویارک، امریکہ

پاکستان کے مقبول ریئلٹی شو تماشہ سیزن 5 کا اختتام ببرک شاہ کی کامیابی پر ہوا۔ میرے نزدیک یہ محض ایک فنکار کی جیت نہیں بلکہ صبر، تحمل، خود اعتمادی، تجربے اور خاموش حکمتِ عملی کی فتح ہے۔

میں نے اس پروگرام کو شروع سے دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ پہلے ہی دن جب ببرک شاہ نے تماشہ ہاؤس میں قدم رکھا تو مجھے ان کی شخصیت میں ایک غیر معمولی اعتماد محسوس ہوا۔ وہ بلند آواز میں اپنی کامیابی کے دعوے نہیں کر رہے تھے، نہ ہر وقت کیمروں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ لیکن ان کے انداز، گفتگو اور رویے سے محسوس ہوتا تھا کہ یہ شخص یہاں صرف وقت گزارنے نہیں آیا، بلکہ جیتنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ببرک شاہ نے ایک اہم بات ثابت کی: جیتنے کے لیے ہر وقت یہ کہنا ضروری نہیں کہ میں جیتوں گا، بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سیزن میں مجموعی طور پر 18 امیدواروں نے حصہ لیا اور چھ فائنل تک پہنچے۔ بالآخر ببرک شاہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ اسراء عائشہ رنر اَپ رہیں۔

شور مچانے والے اور خاموشی سے کھیلنے والے

تماشہ ہاؤس میں مختلف مزاج کے لوگ موجود تھے۔ کچھ امیدوار ہر وقت اپنی کامیابی کے دعوے کرتے نظر آئے۔ بعض اپنی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے تھے کہ انہیں انعامی رقم کی دوسروں سے زیادہ ضرورت ہے۔ کچھ اپنی کم عمری، مستقبل اور کیریئر کو کامیابی کا جواز بناتے رہے۔

میں ان کی مشکلات یا خواہشات کو غلط نہیں سمجھتا۔ ہر انسان کی زندگی میں مسائل ہوتے ہیں اور ہر شخص بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے کا حق رکھتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی مقابلے میں کامیابی کا فیصلہ ذاتی مشکلات، عمر یا ہمدردی کی بنیاد پر ہونا چاہیے؟

میرے نزدیک جواب نفی میں ہے۔

مقابلہ قابلیت، کردار، حکمتِ عملی اور عوام کے اعتماد سے جیتا جاتا ہے، ہمدردی مانگنے سے نہیں۔

ببرک شاہ کا انداز ان سب سے مختلف تھا۔ وہ نہ تو ہر بات پر چیختے تھے، نہ بلاوجہ بحث کو طول دیتے تھے۔ انہوں نے خاموشی سے کھیل کی سیاست کو سمجھا، تعلقات بنائے، حالات کا جائزہ لیا اور مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کیا۔

یہ بھی ایک طرح کی سیاست تھی، مگر شور شرابے کے بجائے ذہانت اور تحمل کی سیاست۔

ایک باپ کا دکھ اور ایک انسان کا وقار

ببرک شاہ کی شخصیت کا ایک پہلو میرے دل کو خاص طور پر چھو گیا۔

پروگرام کے دوران مجھے ان کی ذاتی زندگی کے ایک انتہائی دردناک سانحے کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنے جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کر چکے ہیں۔

ایک باپ کے لیے جوان بیٹے کو کھو دینا شاید زندگی کے سب سے بڑے دکھوں میں سے ایک ہے۔ ایسے غم کا بوجھ انسان عمر بھر اپنے دل میں اٹھائے پھرتا ہے۔

اس پس منظر میں ببرک شاہ کا رویہ میرے لیے مزید قابلِ احترام ہو گیا۔

میری مشاہداتی رائے میں انہوں نے اس ذاتی سانحے کو بار بار سامنے لا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اپنے دکھ کو مقابلے میں کامیابی کا ذریعہ بنانے کے بجائے اپنی شخصیت، کارکردگی اور حکمتِ عملی پر بھروسا کیا۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

دکھ انسان کو کمزور بھی کر سکتا ہے اور باوقار بھی۔ ببرک شاہ نے اپنے رویے سے دکھایا کہ انسان اپنے اندر ایک طوفان رکھتے ہوئے بھی باہر سے پُرسکون رہ سکتا ہے۔

عمر کا مذاق اڑانے والوں کے لیے سبق

اس پروگرام میں بعض نوجوان امیدواروں کے رویوں نے مجھے مایوس کیا۔

کبھی عمر کا حوالہ دے کر کسی کو انکل کہنا، کبھی یہ تاثر دینا کہ بڑی عمر کے شخص کی یہاں جگہ نہیں، اور کبھی کسی کو باہر کا آدمی سمجھ کر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرنا، میرے نزدیک نامناسب رویے تھے۔

عمر کوئی کمزوری نہیں بلکہ اکثر زندگی کے تجربات کا سرمایہ ہوتی ہے۔

جوانی میں توانائی ہوتی ہے، لیکن عمر کے ساتھ آنے والا تجربہ، برداشت اور انسانوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے۔

ببرک شاہ نے یہ ثابت کیا کہ کسی مقابلے میں عمر سے زیادہ اہمیت ذہنی پختگی کی ہوتی ہے۔

جو نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ صرف جوان ہونا ہی کامیابی کی ضمانت ہے، انہیں اس نتیجے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر زی خان کے رویے پر چند سوالات

میں یہاں ڈاکٹر زی خان کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا۔

میری تنقید ان کی ذات یا تعلیمی قابلیت پر نہیں، بلکہ اس رویے پر ہے جو مجھے پروگرام میں نظر آیا۔

ڈاکٹر کا لقب معاشرے میں علم، سنجیدگی، ذمہ داری اور خدمت کے تصور سے وابستہ ہوتا ہے۔ تاہم کسی کی پیشہ ورانہ قابلیت کا حتمی فیصلہ محض ٹیلی وژن پر اس کے رویے سے نہیں کیا جا سکتا۔

میں ڈاکٹر زی خان کی طبی اسناد یا پیشہ ورانہ حیثیت کے بارے میں کوئی غیر مصدقہ دعویٰ نہیں کرنا چاہتا۔

البتہ ایک ناظر کی حیثیت سے مجھے ان کے بعض رویوں میں وہ تحمل اور سنجیدگی کم دکھائی دی جس کی میں توقع کر رہا تھا۔

کبھی غیر ضروری بحث، کبھی جذباتی ردعمل اور کبھی کیمرے کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نے، میرے نزدیک، ان کی مجموعی شخصیت کے تاثر کو متاثر کیا۔

ریئلٹی شو میں کیمرے کی موجودگی ایک حقیقت ہے، لیکن ہر وقت کیمرے پر نمایاں رہنا اور ناظرین کے دلوں میں جگہ بنانا دو مختلف باتیں ہیں۔

نوجوان نسل کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شہرت اور احترام ایک ہی چیز نہیں۔ شہرت بعض اوقات شور سے بھی حاصل ہو جاتی ہے، مگر احترام کردار سے حاصل ہوتا ہے۔

کم عمری اور مالی ضرورت کامیابی کا حق نہیں بناتیں

مجھے ایک نوجوان خاتون امیدوار کا رویہ بھی یاد ہے جو اپنی عمر، مستقبل اور کیریئر کا حوالہ دے کر دوسرے امیدواروں سے توقع رکھتی تھیں کہ وہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوچ مقابلے کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔

اگر کوئی امیدوار 21 سال کا ہے اور اپنا کیریئر شروع کرنا چاہتا ہے تو یہ یقیناً اچھی بات ہے۔ لیکن اس بنیاد پر کسی دوسرے امیدوار سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیوں کیا جائے؟

تماشہ جیسے پروگرام میں فیصلہ بالآخر عوام کی ووٹنگ سے ہونا تھا۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کامیابی کے مستحق ہیں تو عوام سے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حمایت حاصل کریں۔ دوسرے امیدوار سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ آپ کے خوابوں کی خاطر اپنا حق چھوڑ دے۔

کامیابی مانگی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے۔

یہ اصول صرف ریئلٹی شو پر نہیں بلکہ کاروبار، سیاست، ملازمت اور زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔

اسراء عائشہ: ایک مضبوط امیدوار

رنر اَپ اسراء عائشہ کے بارے میں میری رائے مجموعی طور پر مثبت ہے۔

وہ ایک مضبوط امیدوار تھیں۔ ان میں مقابلے کی صلاحیت، اعتماد اور آگے بڑھنے کا جذبہ موجود تھا۔ انہوں نے آخری مرحلے تک اپنی جگہ برقرار رکھی، جو یقیناً قابلِ تعریف ہے۔

تاہم میری رائے میں بعض مواقع پر ان کا غصہ اور جذباتی ردعمل ان کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں پر غالب آ جاتا تھا۔

ممکن ہے یہی رویہ کچھ ناظرین کی رائے پر اثر انداز ہوا ہو، اگرچہ ووٹنگ کے نتائج کی اصل وجوہات کے بارے میں حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

میرے نزدیک اگر اسراء اپنے جذبات پر مزید قابو رکھتیں تو وہ شاید ایک اور بھی مضبوط امیدوار ثابت ہوتیں۔

یہاں بھی سبق یہی ہے کہ صلاحیت کے ساتھ تحمل کا ہونا ضروری ہے۔

ببرک شاہ نے ہمیں کیا سکھایا؟

میں تقریباً 45 برس سے امریکہ میں رہ رہا ہوں۔ اس دوران مجھے کاروبار، مختلف سماجی حلقوں اور عوامی زندگی میں بے شمار لوگوں کے ساتھ کام کرنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

میرے تجربے میں کامیاب انسان ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو سب سے زیادہ بولتا ہے، بلکہ اکثر وہ ہوتا ہے جو دوسروں کو غور سے سنتا ہے، حالات کو سمجھتا ہے اور درست وقت پر فیصلہ کرتا ہے۔

ببرک شاہ کے کھیل میں مجھے یہی خوبی نمایاں نظر آئی۔

ان کی کامیابی سے نوجوان نسل، خصوصاً وہ نوجوان جو فوری شہرت اور کامیابی کے خواہش مند ہیں، بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔

آپ کو ہر بحث جیتنے کی ضرورت نہیں۔ ہر تنقید کا جواب دینا بھی ضروری نہیں۔ ہر موقع پر اپنی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش بھی بعض اوقات آپ کے وقار کو کم کر دیتی ہے۔

کبھی کبھی خاموش رہنا بھی ایک طاقتور جواب ہوتا ہے۔

آخری بات

تماشہ سیزن 5 بظاہر ایک تفریحی پروگرام تھا، لیکن میرے لیے یہ انسانی نفسیات، کردار، صبر، برداشت، انا، حسد، دوستی اور حکمتِ عملی کا ایک دلچسپ مشاہدہ بھی تھا۔

ببرک شاہ کی جیت نے ایک مرتبہ پھر یہ احساس دلایا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے صرف قابلیت کافی نہیں، بلکہ اپنے جذبات پر قابو، دوسروں کا احترام اور مشکل حالات میں متوازن رہنا بھی ضروری ہے۔

میں ببرک شاہ کو ان کی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

میرے نزدیک وہ صرف ایک ریئلٹی شو کی ٹرافی نہیں جیتے، بلکہ انہوں نے بہت سے ناظرین کو ایک خاموش مگر اہم پیغام بھی دیا ہے۔

آپ کو جیتنے کے لیے دوسروں کو نیچا دکھانے کی ضرورت نہیں۔ بعض اوقات اپنے کردار کو بلند رکھنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

اور شاید تماشہ سیزن 5 کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے:

شور مچانے والے تو بہت تھے، مگر جیت اُس شخص کی ہوئی جو خاموشی سے اپنا کھیل کھیلتا رہا۔

— سید انور واسطی

نیویارک، امریکہ

Frequently Asked Questions

Who won Tamasha Season 5 according to this article?

Babarak Shah took first place; Isra Ayesha was the runner-up. Eighteen contestants took part and six reached the final.

What does Syed Anwar Wasti say Babarak Shah’s win represents?

Not just an artist’s victory, but a win for patience, self-control, confidence, experience, and quiet strategy — proving success by action rather than constant claims.

What lesson does he draw for young people?

Age is not a weakness; maturity and composure matter. Fame from noise is not the same as respect earned through character, and success is earned, not demanded from others.