From Sialkot
FromSialkot

Blog

پچاس سال گزر گئے، مگر دوستی آج بھی وہیں کھڑی ہے!
FeaturedPersonal

پچاس سال گزر گئے، مگر دوستی آج بھی وہیں کھڑی ہے!

By Syed Anwar WastiOctober 10, 2026

سید انور واسطی کی یادوں سے — سیالکوٹ، سعودی عرب اور امریکہ تک کا سفر

زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ وقت کمزور کر سکتا ہے، نہ فاصلے ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی حالات بدل سکتے ہیں۔

آپ کسی شخص سے چالیس یا پچاس سال بعد ملیں، لیکن اگر اس کے ساتھ دل کا تعلق ہو، اگر اس نے زندگی کے کسی موڑ پر آپ کے ساتھ خلوص اور محبت کا برتاؤ کیا ہو، تو یقین کیجیے، ملاقات کے پہلے ہی لمحے میں برسوں کی دوریاں سمٹ جاتی ہیں۔

مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی دل میں بھی کوئی حیرت انگیز انٹرنیٹ کنکشن موجود ہے۔ جیسے ہی کوئی پرانا دوست سامنے آتا ہے، ایک سیکنڈ میں پچاس سال پرانی یادیں، واقعات، چہرے اور جذبات دوبارہ تازہ ہو جاتے ہیں۔

آپ بھول جاتے ہیں کہ درمیان میں کتنے سال گزر گئے۔ یوں لگتا ہے جیسے کل ہی تو ملاقات ہوئی تھی۔

گزشتہ روز کچھ ایسی ہی ایک خوبصورت محفل سجی، جس نے مجھے زندگی کے کئی عشرے پیچھے پہنچا دیا۔

Syed Anwar Wasti and old friends gathered for a reunion selfie
پرانے دوستوں کی محفل — سیالکوٹ سے امریکہ تک

سیالکوٹ سے سعودی عرب تک — محبتوں کا سفر

اس محفل میں ہمارے پرانے دوست پاشا صاحب بھی موجود تھے، جن کا تعلق سیالکوٹ کی کاروباری برادری سے ہے۔ ان سے ہماری شناسائی سعودی عرب کے زمانے کی ہے۔ وہ ہمارے عزیز دوست چوہدری شمسا صاحب کے بھی پرانے دوست ہیں۔

سعودی عرب میں گزارے ہوئے دن میری زندگی کا ایک اہم باب ہیں۔ پردیس میں انسان کو اپنے وطن، اپنے خاندان اور اپنے دوستوں کی قدر اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

انہی دنوں میں رانا محمد سعید صاحب اور ان کے بڑے بھائی سے بھی محبت اور خلوص کا تعلق قائم ہوا۔

خصوصاً رانا محمد سعید صاحب کی محبتیں میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

مجھے آج بھی ایک واقعہ اچھی طرح یاد ہے۔ مجھے ریاض سے دمام جانا تھا۔ اس زمانے میں پردیس کے سفر اور آمدورفت کے اپنے مسائل ہوا کرتے تھے۔ رانا صاحب کے پاس ایک بڑی اور مضبوط گاڑی تھی۔ انہوں نے نہایت محبت سے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیو کرتے ہوئے ریاض سے دمام لے گئے۔

آج شاید کسی کے لیے یہ ایک معمولی بات ہو، لیکن میرے لیے یہ بہت بڑی محبت تھی۔

پردیس میں جب کوئی شخص آپ کے لیے اپنا وقت نکالتا ہے، اپنی سہولت قربان کرتا ہے اور آپ کی مدد کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے، تو وہ صرف آپ کی مدد نہیں کرتا، بلکہ آپ کے دل میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتا ہے۔

میں نے اپنی زندگی میں یہ بات بہت شدت سے محسوس کی ہے کہ بعض احسانات ایسے ہوتے ہیں جن کا بدلہ آپ احسان کرنے والے کو کبھی نہیں دے سکتے۔

لیکن آپ اس محبت کو آگے ضرور پہنچا سکتے ہیں۔

Friends from Sialkot and Pakistan American community standing together
دوستوں کی محفل میں وہی پرانی اپنائیت

سعودی عرب سے امریکہ — ایک سبق جو زندگی بھر ساتھ رہا

جب میں امریکہ آیا تو میرے ذہن میں اپنے پرانے دوستوں کی محبتیں اور ان کے احسانات محفوظ تھے۔

میں نے کوشش کی کہ یہاں جو بھی نیا شخص ملے، خاص طور پر کوئی نیا آنے والا پاکستانی، میں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کروں جیسا میرے دوستوں نے سعودی عرب میں میرے ساتھ کیا تھا۔

کسی کو سواری کی ضرورت ہو، کسی کو رہنمائی چاہیے ہو، کسی کو کسی مسئلے میں مدد درکار ہو، تو جہاں تک ممکن ہو، اس کا ساتھ دیا جائے۔

یہ سب کچھ میں نے کسی کتاب سے نہیں سیکھا۔ یہ میرے دوستوں نے اپنے کردار سے مجھے سکھایا تھا۔

میرے نزدیک نیکی کا سب سے خوبصورت بدلہ یہی ہے کہ آپ کسی کی محبت اور احسان کو کسی تیسرے انسان تک پہنچا دیں۔

یہ نیکی کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو نسلوں تک چل سکتا ہے۔ میں اسے ایک طرح کا صدقۂ جاریہ سمجھتا ہوں۔

امریکہ نے بہت کچھ دیا، لیکن ہم نے کیا کھو دیا؟

یہاں میں اپنی زندگی کے ایک اور اہم تجربے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اقتصادی وجوہات کی بنا پر امریکہ آئے تھے۔ بہتر روزگار، بہتر مستقبل، معاشی تحفظ اور اپنی اولاد کے لیے بہتر مواقع ہماری ترجیحات تھیں۔

الحمدللہ، وقت کے ساتھ بہت کچھ بہتر ہو گیا۔ معاشی حالات سنبھل گئے، کاروبار قائم ہوئے، بچوں نے تعلیم حاصل کی، گھر بن گئے اور زندگی میں وہ سہولتیں میسر آ گئیں جن کا کبھی خواب دیکھا کرتے تھے۔

لیکن اس سفر میں ہم نے ایک بہت قیمتی چیز پیچھے چھوڑ دی۔

وہ تھا ہمارا معاشرتی کلچر، محلے داری، رشتوں کی قربت اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کی روایت۔

مجھے اپنا سیالکوٹ یاد آتا ہے۔ وہ محلے، وہ گلیاں، وہ بزرگ، والدین کی موجودگی، دوستوں کا بغیر کسی رسمی دعوت کے گھر آ جانا، شام کو اکٹھے بیٹھنا، چائے پینا اور گھنٹوں گپ شپ کرنا۔

وہ معاشرہ جہاں پڑوسی صرف پڑوسی نہیں ہوتا تھا، بلکہ خاندان کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

کسی کے گھر خوشی ہوتی تو پورا محلہ شریک ہوتا۔ کسی پر مشکل آتی تو لوگ بغیر بلائے مدد کے لیے پہنچ جاتے۔

امریکہ میں ہمیں بہت سی معاشی اور مادی سہولتیں حاصل ہوئیں، لیکن وہ بے ساختہ میل جول، وہ محلے داری اور وہ معاشرتی قربت دوبارہ پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔

یہاں زندگی مصروف ہے۔ ہر شخص کے اپنے اوقات، اپنی ذمہ داریاں اور اپنی مصروفیات ہیں۔ دوستوں سے ملنے کے لیے بھی کئی دن پہلے وقت طے کرنا پڑتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ یہاں محبت نہیں ہے۔ یقیناً ہے، لیکن معاشرتی زندگی کا انداز بہت مختلف ہے۔

اور شاید اسی لیے جب پرانے دوست اکٹھے ہوتے ہیں تو ان محفلوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

یہ صرف دوستوں کی ملاقات نہیں ہوتی، بلکہ اپنے ماضی، اپنی تہذیب اور اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔

Pakistani American friends reunion with Pakistan and US flags
اپنی جڑوں اور دوستوں سے دوبارہ جڑنے کا موقع

FromSialkot.com — اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کی ایک کوشش

اسی احساس کے تحت ہم نے FromSialkot.com کا پلیٹ فارم قائم کیا۔

اس کا مقصد صرف ایک ویب سائٹ بنانا نہیں تھا، بلکہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے دوستوں، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبوں میں سرگرم لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوسرے شہروں کے لوگوں سے ہمارا تعلق یا محبت کم ہے۔

لیکن انسان کا اپنے آبائی شہر، اپنی گلیوں، اپنے اسکولوں، اپنے بچپن اور اپنے پرانے دوستوں سے ایک خاص جذباتی تعلق ہوتا ہے۔

سیالکوٹ ہمارے لیے صرف ایک شہر نہیں، ہماری شناخت اور ہماری یادوں کا حصہ ہے۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہماری کوشش رہی کہ پرانے دوستوں سے رابطے برقرار رہیں، نئی نسل بھی ایک دوسرے کو پہچانے اور ہم اپنے وطن کی خوبصورت معاشرتی روایات کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھ سکیں۔

FromSialkot.com

پرانے دوست، پرانی یادیں اور ایک خوبصورت محفل

اس ملاقات میں چوہدری شمسا صاحب، رانا محمد سعید صاحب، پاشا صاحب، تصور صاحب اور دیگر دوستوں کی موجودگی نے محفل کو خاص بنا دیا۔

مبشر صاحب بھی تشریف لائے۔ ان کی اپنی مصروفیات اور ذمہ داریاں تھیں، لیکن انہوں نے وقت نکالا، دوستوں کے ساتھ بیٹھے، گپ شپ کی اور پھر اپنی مصروفیات کی طرف روانہ ہو گئے۔

مبشر صاحب نہایت اچھے اور مددگار انسان ہیں۔ جب بھی مجھے کسی سواری یا آمدورفت کے سلسلے میں مدد کی ضرورت پڑی، انہوں نے ہمیشہ خوش دلی سے تعاون کیا۔

گوہر صاحب سے بھی ہمارا بہت پرانا تعلق ہے۔ ان کی موجودگی نے پرانی یادوں کو تازہ کر دیا۔

غلام صاحب، جو ویلسٹن میں رہتے ہیں اور سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بھی شریک ہوئے۔ ان کے ساتھ خوب گفتگو رہی۔

شاہ صاحب سے سعودی عرب کے زمانے کی یادیں وابستہ ہیں۔ ایک طویل عرصے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا جیسے درمیان میں ایک پوری نسل جوان ہو گئی ہو۔

پاشا صاحب کے صاحبزادے بھی محفل میں موجود تھے۔ انہیں دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوا کہ ہماری پرانی دوستیوں کی داستان اب اگلی نسل تک پہنچ رہی ہے۔

ہمارے عزیز دوست شاہد صاحب بھی آنا چاہتے تھے، لیکن نیو جرسی میں راحت فتح علی خان کے کنسرٹ کے سلسلے میں ایک ضروری مصروفیت کے باعث تشریف نہ لا سکے۔ انہوں نے معذرت کی، جسے ہم نے محبت سے قبول کیا۔

ان تمام دوستوں کا خلوص اور محبت میرے لیے بہت قیمتی ہے۔

Old friends laughing together at a Sialkot Pakistani American gathering
چوہدری شمسا، رانا سعید، پاشا صاحب اور دیگر دوست

عمران صاحب — پینتیس سالہ دوستی، کاروباری شراکت اور فکری رفاقت

اس محفل کے ایک خاص اور سرپرائز مہمان ہمارے دیرینہ دوست عمران صاحب تھے۔

عمران صاحب کا تعلق فیصل آباد سے ہے، لیکن ان کے ساتھ ہمارا تعلق تقریباً پینتیس سال پر محیط ہے۔

یہ محض رسمی دوستی نہیں، بلکہ کاروباری شراکت داری، سماجی سرگرمیوں، فکری گفتگو، امریکی سیاست میں شرکت اور زندگی کے بے شمار تجربات پر مشتمل ایک طویل رفاقت ہے۔

ہم نے ان برسوں میں بے شمار مواقع پر ایک ساتھ وقت گزارا۔ امریکی کانگریس کے اراکین، سینیٹرز، سیاسی شخصیات اور پاکستان سے آنے والے اہم مہمانوں کے ساتھ ملاقاتیں اور گفتگوئیں ہوئیں۔

ان تمام تجربات کے بعد میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ عمران صاحب غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں کے مالک ہیں۔

میں نے پاکستانی امریکن کمیونٹی میں طویل عرصہ گزارا ہے۔ بے شمار قابل، تعلیم یافتہ اور ذہین شخصیات سے ملنے کا موقع ملا ہے۔

لیکن عمران صاحب کی فکری صلاحیت، معاملات کو سمجھنے کی قوت، تجزیہ کرنے کا انداز، متوازن مزاج اور گفتگو کا معیار مجھے ہمیشہ متاثر کرتا رہا ہے۔

میں یہ بات صرف اس لیے نہیں کہہ رہا کہ وہ میرے دوست ہیں۔

میں نے مختلف محفلوں میں لوگوں کو گفتگو کرتے، دلائل دیتے اور حالات کا تجزیہ کرتے دیکھا ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر میری ذاتی رائے ہے کہ عمران صاحب ہماری کمیونٹی کی غیر معمولی ذہین اور باصلاحیت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ آپ میں بہت آگے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔

اس روز بھی ان کی دوسری دعوتوں اور فنڈ ریزنگ کی مصروفیات تھیں، لیکن انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بعد میں آ کر ہمارے ساتھ شامل ہوں گے، اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔

ان کی آمد نے محفل کی رونق مزید بڑھا دی۔

Group portrait of longtime friends at the reunion
عمران صاحب اور دوستوں کی موجودگی نے محفل کو خاص بنایا

زندگی نے ہمیں اختلاف کے ساتھ جینا بھی سکھایا

اتنے طویل عرصے کی دوستیوں اور سماجی تعلقات نے ہمیں ایک اور اہم سبق دیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب سیاسی یا مذہبی معاملات پر اختلافِ رائے بعض اوقات ذاتی ناراضی میں بدل جاتا تھا۔

ہم سمجھتے تھے کہ شاید اپنی بات منوانا ضروری ہے، یا دوسرے شخص کو اپنے نقطۂ نظر پر قائل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

لیکن وقت اور تجربے کے ساتھ ہمیں یہ سمجھ آ گئی کہ ہر انسان کا اپنا ذہن، اپنا عقیدہ، اپنی سیاسی سوچ اور اپنے تجربات ہوتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ آپ ہر شخص کی سوچ بدل سکیں، اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے۔

اصل دانش مندی یہ ہے کہ آپ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھیں۔

ہم نے یہ سیکھا کہ سیاسی اختلافات ہوں یا مذہبی، ان کے باوجود محبت، دوستی اور باہمی احترام قائم رکھا جا سکتا ہے۔

اور اگر کسی موضوع پر گفتگو سے صرف تلخی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو بہتر ہے کہ اس موضوع کو چھیڑا ہی نہ جائے۔

ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، لیکن ایک اچھے دوست کو سنبھال کر رکھنا ضرور اہم ہے۔

آج میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی اصل پختگی اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ دوسروں کو اپنے سے مختلف سوچ رکھنے کا حق دیتا ہے۔

پچاس سال بعد بھی دل وہیں کھڑا ہے

اس محفل میں بیٹھے ہوئے میں بار بار سوچ رہا تھا کہ زندگی کتنی تیزی سے گزر گئی۔

کل ہم سیالکوٹ کی گلیوں میں تھے، پھر سعودی عرب میں روزگار اور مستقبل کی تلاش میں نکلے، اور آج امریکہ میں زندگی کے کئی عشرے گزار چکے ہیں۔

ہمارے بچے بڑے ہو گئے، نئی نسل سامنے آ گئی، زندگی کے حالات بدل گئے، دنیا بدل گئی۔

لیکن کچھ چیزیں آج بھی نہیں بدلیں۔

وہی پرانی محبت، وہی اپنائیت، وہی ایک دوسرے کے لیے احترام اور وہی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر دل کھول کر ہنسنے کی خواہش۔

اس روز مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ انسان زندگی میں دولت کماتا ہے، کاروبار بناتا ہے، گھر خریدتا ہے اور بہت کچھ حاصل کرتا ہے، لیکن اس کی اصل دولت وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کی زندگی کے مختلف ادوار میں اس کے ساتھ کھڑے رہے۔

میں اس محفل میں شریک ہونے والے تمام دوستوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اور اگر کسی عزیز دوست کا نام اس تحریر میں رہ گیا ہو تو وہ بھی میری محبت اور شکریے میں برابر کا شریک ہے۔

Full gathering of friends spanning Sialkot Saudi Arabia and America
پچاس سال بعد بھی دلوں میں وہی دوستی زندہ ہے

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا:

ہم معاشی خوشحالی کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ عطا کیا، لیکن اپنے والدین کی قربت، بچپن کی گلیاں، محلے داری اور پرانی دوستیوں کا وہ ماحول آج بھی دل میں زندہ ہے۔

شاید ہم وہ پورا ماحول دوبارہ پیدا نہ کر سکیں، لیکن اپنے دوستوں سے مل کر، ایک دوسرے کا خیال رکھ کر اور اپنی نئی نسل کو ان رشتوں کی قدر سکھا کر اس خوبصورت روایت کو زندہ ضرور رکھ سکتے ہیں۔

کیونکہ زندگی کا حسن صرف آگے بڑھنے میں نہیں، بلکہ کبھی کبھی پیچھے مڑ کر ان لوگوں کو یاد کرنے میں بھی ہے جنہوں نے ہمیں یہاں تک پہنچنے میں مدد دی۔

دوستیاں برسوں سے نہیں، دلوں سے زندہ رہتی ہیں۔ اور کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو پچاس سال بعد بھی پہلے دن جیسے محسوس ہوتے ہیں۔

— سید انور واسطی

Frequently Asked Questions

What is this blog post about?

Syed Anwar Wasti reflects on a gathering of old friends whose bonds stretch from Sialkot through Saudi Arabia to America — friendships that still feel fresh after fifty years.

What does he say America gave and what was left behind?

Economic security and opportunity for children, but also the loss of neighborhood culture, informal visits, and the closeness of community life remembered from Sialkot.

Why was FromSialkot.com created?

To bring together people connected to Sialkot — friends, business figures, and active community members — and keep ties, memory, and social traditions alive.