
کیا پاکستان اس موقع کو ایک مستقل حل کے لیے استعمال کرسکتا ہے؟
تحریر: سید انور واسطی
کشمیر کا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ دہائیاں گزر گئیں، نسلیں بدل گئیں، دنیا بدل گئی، لیکن کشمیر کا تنازع آج بھی جنوبی ایشیا کے امن پر ایک سوالیہ نشان بن کر موجود ہے۔
نیویارک میں رہتے ہوئے تقریباً پینتالیس برسوں کے دوران میں نے کشمیر کے حوالے سے بے شمار مظاہرے، جلسے، سیمینار اور اجتماعات دیکھے اور ان میں شرکت بھی کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر، جب بھارتی وزیراعظم نیویارک آتے، ہم کشمیر کے حوالے سے احتجاج کرنے جاتے، آواز اٹھاتے اور دنیا کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتے۔
لیکن پینتالیس سال بعد ہمیں اپنے آپ سے ایک مشکل مگر ضروری سوال پوچھنا چاہیے:
ہم نے عملی طور پر حاصل کیا کیا؟
تصویریں بنیں، تقریریں ہوئیں، اجتماعات ہوئے، کھانے ہوئے اور کشمیر کا نام زندہ رکھا گیا۔ یقیناً کسی مسئلے کو دنیا کے سامنے زندہ رکھنا بھی اہم ہوتا ہے، لیکن صرف مسئلہ زندہ رکھنا کافی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہم اسے کسی قابلِ عمل، پُرامن اور دیرپا حل کی طرف لے جاسکیں۔
صدر ٹرمپ اور پاک بھارت تصادم
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کے فوجی تصادم کو اپنی امن کوششوں کی مثال کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی انتظامیہ بھی پاکستان اور بھارت کے تنازع کو ان conflicts میں شمار کرتی ہے جنہیں صدر ٹرمپ کے مطابق ان کی کوششوں سے ختم یا روکنے میں مدد ملی۔ (The White House)
پاکستان نے بھی اقوام متحدہ میں اپنے سرکاری مؤقف میں صدر ٹرمپ کی کوششوں اور امریکہ سمیت دوست ممالک کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی نے مزید escalation کو روکنے میں مدد دی۔ (Digital Library)
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اس لیے دونوں کے درمیان کسی بڑے فوجی تصادم کا خطرہ صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہتا۔ اگر کبھی حالات قابو سے باہر نکل جائیں اور ایٹمی ہتھیار استعمال ہونے کی نوبت آجائے تو انسانی جانوں کے لیے نتائج ناقابلِ تصور ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے سوال یہ ہے کہ اگر ایک مرتبہ جنگ روکنے یا کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اثر و رسوخ استعمال ہوسکتا ہے تو کیا اسی اثر و رسوخ کو اصل تنازع کے مستقل حل کی طرف بڑھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا؟
پاکستان کے پاس آج ایک غیر معمولی سفارتی موقع ہے
میری نظر میں موجودہ پاکستانی حکومت کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ موجود روابط کی وجہ سے ایک اہم موقع ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ اپریل 2026 میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی پاکستان نے کی، جبکہ سعودی عرب، مصر اور ترکی بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل تھے۔ اقوام متحدہ نے ان سفارتی کوششوں کا باقاعدہ خیرمقدم کیا۔ (The United Nations in India)
ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کے ترجمان نے بھی پاکستانی قیادت کی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔ (UN Transcripts)
اگر پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور امن کی کوششوں میں کردار ادا کرسکتا ہے، اگر پاکستان خلیجی ممالک اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات استعمال کرسکتا ہے، تو پھر کشمیر جیسے اپنے دیرینہ مسئلے کے لیے بھی اس سفارتی رسائی کو استعمال کرنے کی پوری کوشش ہونی چاہیے۔
صدر ٹرمپ سے ایک درخواست
میری رائے میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے کشمیر کا معاملہ ایک نئے انداز سے رکھنا چاہیے۔
ان سے کہنا چاہیے:
“Mr. President, آپ بار بار کہتے ہیں کہ آپ نے جنگیں روکیں اور انسانی جانیں بچائیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی آپ اپنی امن کوششوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اب اس کام کو ادھورا مت چھوڑیے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان، بھارت اور متعلقہ فریقوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیجیے۔”
یہ صدر ٹرمپ کی موجودہ صدارتی مدت ہے، اور امریکی آئین کے تحت کوئی شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ سوچنے کا وقت ہے کہ موجودہ سفارتی تعلق کو کسی تاریخی پیش رفت کے لیے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ اقوام متحدہ کے خطاب میں بھی اپنے آپ کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو دیرینہ تنازعات کو چھوڑنے کے بجائے ان پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ (The White House)
تو پھر پاکستان کو ان سے کہنا چاہیے:
“President Trump، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے پاکستان اور بھارت کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں کردار ادا کیا، تو اب ان لاکھوں جانوں کو صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کی کوشش کیجیے۔ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات اور ایک پُرامن، قابلِ قبول اور دیرپا حل کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔”
ایک ایسا کام جو تاریخ یاد رکھے گی
دنیا میں بہت سے لیڈر آتے ہیں، اپنی مدت پوری کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو کسی صدر کی مدتِ اقتدار سے کہیں زیادہ عرصے تک یاد رکھے جاتے ہیں۔
اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت جیسے دو ایٹمی ممالک کو کشمیر کے مسئلے پر سنجیدہ مذاکرات کی میز تک لے آتے ہیں، اور ان کی کوشش سے اس دہائیوں پرانے تنازع کے کسی پُرامن اور قابلِ قبول حل کی بنیاد پڑ جاتی ہے، تو یہ صرف پاکستان، بھارت یا کشمیر کے لیے کامیابی نہیں ہوگی؛ یہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔
اور میری ذاتی رائے میں، اگر صدر ٹرمپ واقعی ایسا کر دکھاتے ہیں، اگر وہ اس مسئلے کو مستقل امن کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو پاک بھارت جنگ کے خطرے سے محفوظ کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، تو پھر وہ صرف ایک نوبیل امن انعام نہیں بلکہ کئی نوبیل امن انعامات کے مستحق ہوں گے۔
اور اگر ایسا امن حقیقت بن جاتا ہے تو میں دل سے کہوں گا: President Donald Trump truly deserves it.
— سید انور واسطی، نیویارک
Frequently Asked Questions
What historic opportunity does this article discuss?
Syed Anwar Wasti argues Pakistan may use its current diplomatic relationship with the Trump administration to push for serious negotiations toward a peaceful, lasting solution on Kashmir.
Why does Wasti link Trump to Kashmir?
Trump has repeatedly cited the May 2025 Pakistan–India military confrontation among conflicts his efforts helped stop or contain, and Pakistan has also acknowledged that role in official UN statements.
What request does Wasti suggest Pakistan make to Trump?
That Trump not leave the work unfinished — use his influence to pave the way for serious talks among Pakistan, India, and relevant parties on Kashmir toward a peaceful, acceptable, lasting solution.