
انور بھلی صاحب کی یاد میں — میری زندگی کے سفر کے چند محسن
زندگی کا سفر صرف انسان کی اپنی محنت کا نام نہیں۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں ایسے لوگوں کو وسیلہ بناتا ہے جو ہمارا ہاتھ تھامتے ہیں، ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری زندگی کا رخ ہی بدل دیتے ہیں۔ آج جب میں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے سفر کو یاد کرتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو بھی یاد کروں جن کا میری زندگی کے مختلف مراحل میں اہم کردار رہا، اور دل کی گہرائیوں سے انہیں سلام پیش کروں۔
انہی شخصیات میں ایک بہت اہم اور یادگار نام انور بھلی صاحب کا ہے۔ میرے کالج کے زمانے میں ہم دوست اکثر ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ ان کی محفل، ان کی شفقت اور ان کی شخصیت ہمارے لیے بڑی کشش رکھتی تھی۔ وہ میرے لیے صرف ایک جاننے والے نہیں بلکہ ایک رول ماڈل، رہنما اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ تھے۔
میری زندگی کے سفر میں ایک بہت اہم موڑ بھی انور بھلی صاحب کے توسط سے آیا۔ انہی کے حوالے سے میری ملاقات رانا مجید صاحب سے ہوئی، اور پھر رانا مجید صاحب کے ساتھ مجھے سعودی عرب جانے کا موقع ملا۔ یوں گھر سے باہر نکل کر ایک نئے ملک میں زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔
سعودی عرب میں کچھ عرصہ قیام کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری زندگی میں ایک اور محسن، ملک غیاث صاحب (Malik Ghias)، کو وسیلہ بنایا۔ ان کی شفقت، تعاون اور مہربانی کی بدولت میرے لیے امریکہ آنے کا راستہ بنا۔ اللہ تعالیٰ ملک غیاث صاحب کو صحت، تندرستی، خوشیاں اور دراز عمر عطا فرمائے۔ ان کی مہربانی اور تعاون کو میں اپنی زندگی میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
بعد میں جب انور بھلی صاحب امریکہ تشریف لائے تو ہمیں ان کی میزبانی کا موقع بھی ملا۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے وہ لمحات آج بھی میری زندگی کی خوبصورت اور قیمتی یادوں کا حصہ ہیں۔
آج انور بھلی صاحب کو یاد کرتے ہوئے دراصل میں اپنی زندگی کے پورے سفر کو دیکھ رہا ہوں — سیالکوٹ سے سعودی عرب اور پھر سعودی عرب سے امریکہ تک۔ اس سفر کے مختلف موڑوں پر مختلف لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ کسی نے تعارف کروایا، کسی نے راستہ دکھایا، کسی نے ساتھ دیا اور کسی نے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
زندگی میں وقت گزرتا رہتا ہے، شہر اور ملک بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں، لیکن کچھ لوگوں کے احسان، محبت اور شفقت انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
انور بھلی صاحب، رانا مجید صاحب اور ملک غیاث صاحب — آپ سب کا میری زندگی کی کہانی میں ایک خاص مقام ہے۔ میں آپ کی محبت، شفقت اور تعاون کو دل سے یاد کرتا ہوں اور آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔
انور بھلی صاحب آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان سے وابستہ یادیں ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہیں گی۔ ہم انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انور بھلی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
زندگی میں اپنی منزل کو یاد رکھنا اہم ہے، مگر ان لوگوں کو یاد رکھنا اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے جو اس منزل تک پہنچنے کے سفر میں ہمارے لیے وسیلہ بنے۔
تحریر: سید انور واسطی
Syed Anwar Wasti
Frequently Asked Questions
Who was Anwar Bhulli Sahib to Syed Anwar Wasti?
During college years, Anwar Bhulli Sahib was a role model, guide, and source of encouragement. Sitting in his company meant a lot to Wasti and his friends.
How did Anwar Bhulli Sahib change Wasti’s life path?
Through Anwar Bhulli Sahib, Wasti met Rana Majeed Sahib, and with Rana Majeed he got the chance to go to Saudi Arabia — beginning a new chapter away from home.
Who helped Syed Anwar Wasti come to America?
After some time in Saudi Arabia, Malik Ghias Sahib’s kindness and support opened the path for Wasti to come to America.
What is this tribute about?
It is a remembrance of Anwar Bhulli Sahib and gratitude for mentors who helped shape Wasti’s journey from Sialkot to Saudi Arabia to America.