FromSialkot
FromSialkot

Blog

تماشا سیزن 5 — ہم اپنی نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
Entertainment

تماشا سیزن 5 — ہم اپنی نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

Syed Anwar WastiAugust 12, 2026

ARY Digital پر نشر ہونے والا پروگرام تماشا سیزن 5 یقیناً پاکستان کے مقبول پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ لیکن اس پروگرام کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر بحیثیت پاکستانی ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

میں تقریباً 45 سال سے امریکہ میں رہ رہا ہوں۔ یہاں رہتے ہوئے بھی میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنے بچوں کو اپنی دینی اور معاشرتی اقدار سے جوڑے رکھوں۔ انہیں بتایا کہ ہماری صبح کا آغاز نماز، دعا، نظم و ضبط اور ایک مثبت روٹین سے ہونا چاہیے۔

بچوں کا سوال

لیکن جب میرے بچوں نے تماشا میں صبح کا منظر دیکھا، جہاں کنٹسٹنٹس نیند سے بیدار ہوتے ہی موسیقی، رقص اور بعض اوقات ایسے لباس میں دکھائی دیتے ہیں جو ہماری عمومی خاندانی اور معاشرتی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے، تو انہوں نے مجھ سے ایک بہت سادہ سوال کیا:

“بابا، آپ ہمیں کچھ اور سکھاتے ہیں، لیکن پاکستان کے ٹی وی پر تو کچھ اور دکھایا جا رہا ہے؟”

میرے پاس اس سوال کا آسان جواب نہیں تھا۔

تفریح ضروری ہے، مگر صبح کا تاثر بھی اہم ہے

میں یہ نہیں کہتا کہ ایک تفریحی پروگرام کو مذہبی پروگرام بنا دیا جائے۔ نہ ہی یہ ضروری ہے کہ صبح ہوتے ہی پروگرام میں اذان یا نماز دکھائی جائے۔ لیکن اگر آپ ہماری دینی روایت کی عکاسی نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم صبح کا آغاز ایسے مناظر سے بھی نہ کریں جو یہ تاثر دیں کہ پاکستانی نوجوان نیند سے اٹھتے ہی موسیقی اور رقص شروع کر دیتے ہیں۔

یہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کے معمولات اور ثقافتی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا۔

امریکہ میں بھی یہ صبح نہیں دیکھی

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جیسے مغربی معاشرے میں 45 سال گزارنے کے بعد بھی میں نے عام زندگی میں صبح کا ایسا کلچر نہیں دیکھا۔ یہاں لوگ صبح اٹھ کر کام پر جاتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، واک کرتے ہیں، اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور بہت سے مذہبی لوگ اپنی عبادت اور چرچ کی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ نیند سے اٹھتے ہی مخصوص لباس میں موسیقی پر رقص کرنا یہاں بھی کسی عام امریکی گھرانے کی صبح کی نمائندگی نہیں کرتا۔

پھر ہم پاکستان کی نئی نسل کو یہ کس معاشرے کی تصویر دکھا رہے ہیں؟

ذمہ داری کنٹسٹنٹس کی نہیں

میرا اعتراض کسی لڑکے، لڑکی یا کنٹسٹنٹ کی ذات پر نہیں۔ اصل ذمہ داری پروگرام بنانے والوں، پروڈیوسرز اور چینل کی ایڈیٹوریل سوچ پر آتی ہے۔ تفریح ضرور کریں، جدید پروگرام بھی بنائیں، لیکن پاکستان کی معاشرتی حقیقت اور خاندانی اقدار کو مکمل طور پر نظرانداز نہ کریں۔

میڈیا رویے بھی بناتا ہے

میڈیا صرف تفریح نہیں کرتا، میڈیا رویے بھی بناتا ہے، ترجیحات بھی بدلتا ہے اور نئی نسل کے ذہن میں یہ تصور بھی پیدا کرتا ہے کہ “نارمل” کیا ہے۔

ARY اور تماشا کی ٹیم سے میری گزارش ہے کہ اس پہلو پر ضرور غور کریں۔ صبح کے مناظر کو زیادہ مہذب، متوازن اور ہماری معاشرتی حقیقت سے قریب دکھانا نہ پروگرام کی مقبولیت کم کرے گا اور نہ تفریح ختم ہوگی۔

جدید ہونا اور اپنی اقدار سے کٹ جانا ایک ہی بات نہیں ہے۔

— سید انور واسطی

Frequently Asked Questions

What is this Tamasha Season 5 article about?

Syed Anwar Wasti argues that Tamasha Season 5’s morning scenes — contestants waking up to music, dancing, and clothing that does not reflect typical Pakistani family values — send a confusing message to the next generation about what is “normal.”

Is the author asking ARY Digital to turn Tamasha into a religious program?

No. He says entertainment does not need to become a religious show, and morning scenes do not have to include azan or prayer. His request is that morning sequences should not imply Pakistani youth wake up and immediately start music and dancing.

Who does the author hold responsible for Tamasha’s morning scenes?

He does not blame individual contestants. He says the responsibility lies with the program makers, producers, and the channel’s editorial thinking.

Why does the author mention living in the United States for 45 years?

He uses that experience to say that even in a Western society, ordinary mornings are work, exercise, school, and worship — not waking up to dance in special clothing. He argues Tamasha’s morning image does not represent typical life in Pakistan or America.

Who wrote this Tamasha Season 5 Urdu opinion?

The article was written by Syed Anwar Wasti, founder of FromSialkot.com, after his children asked why Pakistani TV showed a different morning culture than the values he teaches at home.