From Sialkot
FromSialkot

Blog

وہ دن جب میاں شہباز شریف وطن لوٹے، مگر وطن میں ٹھہر نہ سکے
Personal

وہ دن جب میاں شہباز شریف وطن لوٹے، مگر وطن میں ٹھہر نہ سکے

By Syed Anwar WastiSeptember 18, 2026

میری سیاسی یادداشتوں سے — 2004ء

تحریر: سید انور واسطی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض اخبارات کی سرخیاں نہیں رہتے بلکہ ان لوگوں کی زندگی اور یادداشتوں کا حصہ بن جاتے ہیں جو ان واقعات کے کسی نہ کسی مرحلے کے عینی شاہد یا عملی کردار رہے ہوں۔ میرے لیے مئی 2004ء کا زمانہ بھی ایسی ہی ایک یاد ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں شریف خاندان جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اسی دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ 11 مئی 2004ء کو وہ لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور پہنچے، لیکن انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ مل سکی اور چند گھنٹوں بعد انہیں دوبارہ سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔

اس وقت ہم پاکستان مسلم لیگ (ن) USA کے پلیٹ فارم سے پارٹی اور اس کی قیادت کے ساتھ کھڑے تھے۔ روحیل ڈار صاحب PML(N) USA کے صدر، رانا محمد سعید جنرل سیکرٹری، جبکہ میں، سید انور واسطی، ایڈوائزر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا۔

میاں شہباز شریف کی وطن واپسی اور پھر لاہور ایئرپورٹ سے انہیں واپس بھیجے جانے کے بعد ہم نے نیویارک میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں اس وقت کی صورتحال پر اپنا مؤقف پاکستانی کمیونٹی اور میڈیا کے سامنے رکھا۔

اس جدوجہد اور سرگرمیوں میں ہمارے ساتھ ملک جمیل، ناصر بھٹ، خالد اعوان اور امتیاز وڑائچ سمیت دیگر ساتھی بھی موجود اور سرگرم تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے اپنے انداز میں پارٹی کے لیے کام کیا اور بیرونِ ملک پارٹی کی آواز بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اس پریس کانفرنس کو نیویارک سے شائع ہونے والے ہفت روزہ صدائے پاکستان انٹرنیشنل نے نمایاں کوریج دی۔ اس کا 27 مئی تا 2 جون 2004ء کا شمارہ آج بھی میرے ذاتی آرکائیو میں محفوظ ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد جب میں اس اخبار کی یہ تراشہ دیکھتا ہوں تو اس دور کی بہت سی یادیں ایک مرتبہ پھر تازہ ہوجاتی ہیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب آج کی طرح سوشل میڈیا موجود نہیں تھا۔ اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے لیے پریس کانفرنسیں، اخبارات، ٹیلی فون اور ذاتی رابطے ہی ہمارے اہم ذرائع تھے۔

امریکہ میں بھی ہم نے اپنی ذمہ داریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ میں اور عمران اگرا امریکی سینیٹ اور کانگریس کے حلقوں تک اپنا مؤقف پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ عمران اگرا امریکی اخبارات اور میڈیا کے ساتھ رابطوں میں بھی کردار ادا کرتے تھے۔ رانا محمد سعید نیویارک سے لندن گئے اور وہاں پارٹی رابطوں اور معاملات میں اپنا کردار ادا کیا۔

میرے لیے اس دور کی ایک ذاتی یاد یہ بھی ہے کہ میاں شہباز شریف مجھے محبت سے “شاہ صاحب” کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ان دنوں سے وابستہ کئی یادگار چیزیں اور دستاویزات آج بھی میرے ذاتی آرکائیو میں محفوظ ہیں، جن میں ان کا دیا ہوا ایک امریکی ہیلتھ کیئر کارڈ بھی شامل ہے، جو انہوں نے مجھے سنبھال کر رکھنے کے لیے دیا تھا۔

آج جب میں اپنے پرانے اخبارات، تصاویر، خطوط اور دوسری دستاویزات کو ترتیب دے رہا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف میری ذاتی یادیں نہیں، بلکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ کا بھی ایک حصہ ہیں۔

11 مئی 2004ء کو میاں شہباز شریف وطن واپس پہنچے، لیکن انہیں وطن میں ٹھہرنے نہیں دیا گیا۔ اس کے چند دن بعد نیویارک میں ہونے والی ہماری پریس کانفرنس اس واقعے پر بیرونِ ملک پاکستانی سیاسی کارکنوں کے ردِعمل کا ایک دستاویزی ریکارڈ بن گئی۔

آج بھی میرے سامنے صدائے پاکستان کا وہ پرانا شمارہ موجود ہے۔ کاغذ پر وقت کے نشان ضرور آگئے ہیں، مگر اس سے وابستہ یادیں آج بھی تازہ ہیں۔

یہ تاریخ میں نے صرف پڑھی نہیں، بلکہ اس کے ایک حصے کو قریب سے دیکھا اور جیا ہے۔

سید انور واسطی

ذاتی سیاسی آرکائیو سے — نیویارک، 2004ء

Frequently Asked Questions

What happened when Shehbaz Sharif tried to return in May 2004?

On 11 May 2004 he arrived in Lahore from London via Abu Dhabi, but was not allowed to enter Pakistan and was sent back to Saudi Arabia within a few hours.

What was Syed Anwar Wasti’s role at the time?

He served as an adviser with PML(N) USA, alongside president Roheel Dar and general secretary Rana Muhammad Saeed, and helped hold a New York press conference after the Lahore airport episode.

How was the New York press conference covered?

The weekly Sada-e-Pakistan International, published from New York, gave it prominent coverage in its 27 May–2 June 2004 issue, which Wasti still keeps in his personal archive.