FromSialkot
FromSialkot

Blog

پرتگال کی گلیوں میں پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کے سائے
Personal

پرتگال کی گلیوں میں پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کے سائے

Syed Anwar WastiAugust 14, 2026

گزشتہ روز پرتگال کی ایک مقامی مارکیٹ میں گھومتے ہوئے اچانک پاکستان کی وہ مشہور بات یاد آگئی کہ دولت کے پاؤں نہیں ہوتے، لیکن وہ سرحدیں بڑی تیزی سے پار کر جاتی ہے۔

پاکستان میں برسوں سے یہ الزام اور بحث سننے کو ملتی رہی ہے کہ بعض بااثر سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور طاقتور طبقوں نے ملک کے وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھایا، دولت بیرونِ ملک منتقل کی اور پھر اپنے خاندانوں کا مستقبل یورپ میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ پرتگال بھی ان ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے جہاں سرمایہ کاری کے ذریعے رہائش حاصل کرنے کے پروگرام موجود رہے ہیں۔

یہاں آکر ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے: اگر کسی خاندان کی بیرونِ ملک جائیداد، سرمایہ کاری اور آسائشوں کے پیچھے پاکستان سے آنے والی دولت ہے تو کیا پاکستانی عوام کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟

اصل مسئلہ کسی کا پرتگال میں رہنا، سرمایہ کاری کرنا یا قانونی طریقے سے رہائش اور شہریت حاصل کرنا نہیں۔ دنیا بھر میں لوگ بہتر مستقبل کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ سوال صرف ان لوگوں سے ہونا چاہیے جن کی دولت ان کی معلوم اور قانونی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پاکستان کے عام شہری نے مہنگائی، ٹیکس، بجلی کے بل اور بے روزگاری کا بوجھ اٹھایا۔ دوسری طرف اگر قومی وسائل سے فائدہ اٹھانے والے چند افراد نے اسی دولت سے اپنے بچوں کے لیے یورپ میں محفوظ مستقبل بنایا، تو یہ محض مالی بدعنوانی کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ قوم کے اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔

پرتگال کی خوبصورت گلیوں میں چلتے ہوئے میرے ذہن میں بس یہی خیال آیا:

یورپ میں گھر خرید لینا آسان ہوسکتا ہے، مگر ایک دن یہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ اسے خریدنے والا پیسہ آیا کہاں سے تھا؟

— سید انور واسطی

Frequently Asked Questions

What is this Portugal article about?

It is a personal reflection by Syed Anwar Wasti, written after walking through a local market in Portugal, on allegations that some powerful Pakistanis moved illicit wealth abroad and secured a future in Europe.

Does the article criticize living or investing in Portugal?

No. It says living, investing, or legally obtaining residency and citizenship in Portugal is not the issue. People around the world do this for a better future. The question is only for those whose wealth does not match their known, lawful income.

What question does the author raise for the Pakistani public?

If a family’s overseas property, investments, and comforts are funded by wealth from Pakistan, do ordinary Pakistanis have a right to know where that money came from?

What is the main message of the piece?

Buying a home in Europe may be easy, but unexplained wealth is not only financial corruption — it becomes a question of public trust when a few people use national resources while ordinary citizens bear inflation, taxes, bills, and unemployment.