
14 اگست — یومِ آزادی پر ایک ذاتی احساس
آج یومِ آزادی کے موقع پر میں وطن، ہجرت اور انسان کی زندگی کے سفر کے بارے میں ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں۔
ہمارے واسطی خاندان کی تاریخ بھی ہجرتوں کی ایک طویل داستان ہے۔ Iraq سے ہندوستان، ہندوستان سے پاکستان، اور پھر پاکستان سے دنیا کے مختلف حصوں تک۔ آج ہمارے خاندان کے لوگ New York, New Jersey, Orlando, Essex, London, Spain اور کئی دوسری جگہوں پر آباد ہیں۔
ہجرت کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک ہجرت وہ ہوتی ہے جب انسان اپنے لیے ایک وطن، ایک زمین اور ایک شناخت تلاش کرتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد میں بھی ایسی ہی ایک عظیم ہجرت اور بے شمار قربانیاں شامل ہیں۔
اور ایک ہجرت وہ ہے جو انسان بہتر روزگار، تعلیم، مستقبل اور مواقع کی تلاش میں اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ جیسے میں پاکستان سے America آیا، ہمارے خاندان کے کچھ لوگ London اور دنیا کے دوسرے حصوں میں چلے گئے۔
لیکن وقت گزرنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ ہر ہجرت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔
نئے ملک میں آکر انسان زبان، نظام، روزگار، گھر اور اپنی پہچان بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ زندگی کے پندرہ بیس سال صرف اپنے آپ کو دوبارہ کھڑا کرنے اور یہ ثابت کرنے میں گزر جاتے ہیں کہ ہم بھی یہاں کے معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب تک انسان کہتا ہے کہ اب میں سنبھل گیا ہوں، زندگی کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہوتا ہے۔
آج برسوں بعد دل پھر پاکستان کی طرف دیکھتا ہے۔ خیال آتا ہے کہ زندگی کا آخری حصہ شاید اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنی زبان کے درمیان گزارا جائے۔
یہاں علاج کی بہترین سہولتیں ہوسکتی ہیں، آرام ہوسکتا ہے، نظام ہوسکتا ہے، لیکن دوائی کے ساتھ انسان کو انسان بھی چاہیے۔ کوئی پاس بیٹھنے والا، کوئی حال پوچھنے والا، کوئی ایسا جس سے دل کی دو باتیں کی جاسکیں۔ بعض ضرورتیں دنیا کی بہترین سہولتیں بھی پوری نہیں کرسکتیں۔
آخر انسان ساری زندگی دوڑتا کس لیے ہے؟
آج جس زمین پر ہم تیزی سے چلتے ہیں، کامیابی کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اپنی منزلیں تلاش کرتے ہیں، ایک دن یہی زمین ہمارے اوپر چھت بن جائے گی، اور دوسرے لوگ اسی زمین پر چل رہے ہوں گے۔
شاید زندگی ہمیں آخر میں یہی سمجھاتی ہے کہ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، کتنی ہی کامیابیاں حاصل کرلے، اپنی مٹی، اپنے لوگ اور اپنی جڑیں اس کے اندر کہیں نہ کہیں زندہ رہتی ہیں۔
14 اگست میرے لیے صرف پاکستان کی آزادی کا دن نہیں، بلکہ یہ یاد کرنے کا دن بھی ہے کہ ہمیں ایک ایسا وطن ملا جسے ہم دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوئے اپنا کہہ سکتے ہیں۔
ہم دنیا میں جہاں بھی آباد ہوں، پاکستان سے ہمارا رشتہ صرف پاسپورٹ یا نقشے کا رشتہ نہیں۔ یہ ہماری یادوں، ہماری زبان، ہمارے بزرگوں، ہماری قبروں اور آنے والی نسلوں کی شناخت کا رشتہ ہے۔
پاکستان سے دور رہ کر شاید وطن کی قدر اور بھی زیادہ سمجھ آتی ہے۔
اللہ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے، اور ہمیں زندگی کے سفر میں اپنی جڑوں، اپنے لوگوں اور اپنی مٹی سے جڑے رہنے کی توفیق دے۔
پاکستان زندہ باد۔
یومِ آزادی مبارک۔
— سید انور واسطی
Frequently Asked Questions
What is this 14 August article about?
It is a personal Independence Day reflection by Syed Anwar Wasti on homeland, migration, family history, and the emotional cost of building a life abroad while remaining connected to Pakistan.
Who is the author?
Syed Anwar Wasti, founder of FromSialkot.com, writing from the perspective of a Pakistani who migrated to America.
What family history does he mention?
He traces the Wasti family’s long story of migration — from Iraq to India, India to Pakistan, and then from Pakistan to places including New York, New Jersey, Orlando, Essex, London, and Spain.
What is the main message of the piece?
That every migration has a cost, success abroad cannot replace roots and human connection, and 14 August is a reminder that Pakistan remains a homeland of memory, language, elders, and identity — even from far away.